The news is by your side.

Advertisement

امی کو اس کے بنا، کچھ بھی اچھا نہ لگے!

ہندی فلموں کے لیے تخلیق کیے گئے کئی گیتوں کو جب کشور کمار نے اپنی خوب صورت اور رسیلی آواز دی تو وہ یادگار ٹھہرے اور آج بھی بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔ یہاں ہم 1957 کی فلم "مسافر” کا ایک نغمہ پیش کررہے ہیں جس میں شاعر نے ایک انمول اور حسین ترین رشتے کے حوالے سے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

ایک بچّے اور اس کی ماں کے درمیان اس جذباتی گفتگو کو گیت کا پیراہن مشہور نغمہ نگار شیلندر نے دیا ہے۔ گلوکار کشور کمار ہیں۔ یہ گیت اس دور میں بہت مقبول ہوا۔

"منّا اور امی”

منّا بڑا پیارا، امی کا دلارا
کوئی کہے چاند، کوئی آنکھ کا تارا
ہنسے تو بھلا لگے، روئے تو بھلا لگے
امی کو اس کے بنا، کچھ بھی اچھا نہ لگے
جیو میرے لال، جیو میرے لال
تم کو لگے میری عمر، جیو میرے لال

ایک دن وہ ماں سے بولا، کیوں پھونکتی ہے چولھا
کیوں نہ روٹیوں کا پیڑ ہم لگا لیں
آم توڑیں، روٹی توڑیں، روٹی آم کھا لیں
کاہے کلے(کرے) لوج لوج (روز روز) تُو یہ جھمیلا

امی کو آئی ہنسی، ہنس کے وہ کہنے لگیں
لال محنت کے بنا، روٹی کس گھر میں پکی
جیو میرے لال، جیو میرے لال
تم کو لگے میری عمر، جیو میرے لال

اک دن یوں چھپا منّا، ڈھونڈے نہ ملا منّا
بستر کے نیچے، کرسیوں کے پیچھے
دیکھا کونا کونا سب تھے سانس کھانچے
کہاں گیا، کیسے گیا سب تھے پریشان
سارا جگ ڈھونڈ تھکے، کہیں منّا نہ ملا
ملا تو پیار بھری ماں کی آنکھوں میں ملا
جیو میرے لال، جیو میرے لال
تم کو لگے میری عمر، جیو میرے لال

Comments

یہ بھی پڑھیں