The news is by your side.

Advertisement

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے، سبب جانیے

یرقان کا مطلب جلد اور جسم کے ریشوں کی رنگت کا زرد ہونا ہے، یہ رنگت زیادہ تر جلد یا آنکھوں کے سفید حصہ میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ تمام نارمل نوزائیدہ بچوں میں سے تقریبا نصف میں یرقان دیکھا جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں پیلاہٹ کے اسباب

پیدائش کے بعد پہلے چند دنوں میں آپ کے بچے کا جگر اتنی اچھی طرح کام نہیں کرتا جتنی اچھی طرح یہ بعد میں کام کرتا ہے لہذا خون میں بیلیروبن اکٹھی ہو جانے کا رجحان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جلد اور آنکھوں کے سفید حصے میں پیلاہٹ پیدا ہوتی ہے۔

(بیلیروبن ایک رنگدار مادہ ہے جو سرخ خون کے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ خلیے اپنی جگہ تبدیل کرتے ہیں یہ مادہ قدرتی طور پر آزاد ہو جاتا ہے)۔ نوزائیدہ بچوں میں سرخ خون کے خلیے اْن کی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں، جب یہ زائد سرخ خون کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو یہ  بیلیروبن کو آزاد کر دیتے ہیں۔

کن بچوں کو یرقان ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے؟

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں یرقان ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اس کے علاوہ کسی انفیکشن جیسے پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا نوزائیدہ بچے، پھر وہ بچے جس کا خون کا گروپ اپنی ماں سے مختلف ہو، اس کے خون کے خلیات زیادہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں یرقان ہو جاتا ہے۔

کیا یرقان نوزائیدہ بچوں کے لئے نقصان دہ ہے؟

بیشتر ننھے بچوں کیلئے یرقان نقصان دہ نہیں ہوتا، تاہم جگر میں گھلنے کے عمل سے نہ گزرنے والے بیلیروبن کی بہت زیادہ ہونے کے باعث سماعت کے مسائل ہو سکتے ہیں اور دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایسے بچے جو ابتدائی عمر میں جگر کی بیماری میں مبتلا ہو، وہ بظاہر صحتمند دکھائی دیتے ہیں، مگر بیلیروبن کی زیادہ مقدار بہنے کی صورت میں بچوں کے نظام انہضام اور جگر میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جس کے لئے نظام انہضام اور جگر کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کو معائنہ کرانا ضروری ہوتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں میں ہونے والے یرقان کا علاج

پہلے ہفتے میں ہلکے یرقان کیلئے مائع پلانے  کے علاوہ کوئی عالج ضروری نہیں ہوتا، نوزائیدہ بچوں کے جسم میں پانی کی بہتر مقدار جاتے رہنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ پانی کی تھوڑی سی کمی کی وجہ سے اکثر یرقان بہت بڑھ جاتا ہے

 درمیانی حد کے یرقان کا علاج اس طرح کیا جاتا ہے کہ بچے کو ننگے بدن )آنکھوں پر حفاظتی ماسک لگا کر( ایک تیز روشنی یا نیلی مائل روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے، اسے فوٹوتھراپی کہتے ہیں اور یہ علاج کئی طریقوں سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، فوٹو تھراپی کی روشنی جلد میں موجود بیلیروبن کو توڑ پھوڑ کر یرقان کو ہلکا کر دیتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نگرانی کے بغیر بچے کو دھوپ میں براہ راست رکھنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے اور بچے کی جلد جھلس سکتی ہے۔

یہ ریسرچ فیکٹ شیٹ کی جانب سے معلومات عامہ کے تحت شائع کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں