The news is by your side.

Advertisement

’’سمندر‘‘ اور جی دار مقرّر

دوسری جنگِ عظیم ختم ہو چکی تھی لیکن فضاء میں بم کے دھماکوں کی گونج باقی تھی۔برطانوی سامراج کا دَم اکھڑ تو رہا تھا لیکن جس طرح بجھتے ہوئے چراغ کو لو بھڑک اٹھتی ہے۔ اسی طرح برطانوی استبداد کا جبر بھی کچھ بڑھ گیا تھا۔

1945ء کے اواخر کا یہ زمانہ ایسا تھا جب ایک طرف گورکھپور ہڑتالوں، فائرنگ، آزاد ہند فوج، جواہر لال نہرو کی تقاریر، ظہیر لاری، رضوان احمد کی لیگی سیاست کے چرچے تھے تو دوسری طرف ملک میں فرقہ وارانہ رنگ بھی ابھر رہا تھا اور ہر دو کے سلسلہ میں بھی اختلافی باتیں شروع ہو چکی تھیں۔ ایسے زمانہ میں سینٹ اینڈریوز کالج گورکھپور کے وسیع کمپاونڈ میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں شمسی میاں صاحب نے نظم ’’سمندر‘‘ کے عنوان سے پڑھنی چاہی تھی مگر کچھ ہی شعر پڑھ پائے تھے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے انھیں روک دیا۔ بس پھر کیا تھا ہنگامہ ہو گیا۔ مشاعرہ درہم برہم ہونے لگا۔

سجاد ظہیر اور جگر مراد آبادی نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اس رویہ پر احتجاج کیا۔ ایک صاحب تقریر کرنے کھڑے ہوئے لیکن تقریر سننے سے پہلے ہی لوگوں نے انھیں ہوٹ کرنا شروع کر دیا مگر جی دار مقرر تھا۔ چند لمحے تک اس کے اور سامعین کے درمیان ہوٹنگ کی بیت بازی ہوتی رہی لیکن دھیرے دھیرے مقرر کی پاٹ دار آواز کی خصوصی سحر کارانہ کیفیت مجمع کی ملی جلی آوازوں پر چھاتی چلی گئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مقرر فراق گورکھپوری ہیں جو ہیں گورکھپور کے ہی لیکن رہتے الہ آباد میں ہیں۔ انگریزی پڑھاتے ہیں اور اردو کے شاعر ہیں۔

فراق صاحب ہندی کے خلاف برٹش گورنمنٹ کے خلاف اور پبلک کے خلاف تقریر کرتے رہے۔ بیچ میں اپنے شعر بھی سناتے رہ گئے اور لفظیت کے لسانی پہلو پر بھی روشنی ڈالتے گئے۔ ایک فقرہ ابھی تک یاد ہے۔

’بخار میں بیت ہے۔‘ ان کی اس تقریر کے دوران قہقہے بھی ابھرتے تالیاں بھی بجیں۔ ونس مور بھی ہوا۔ بس ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک جادوگر ہے جس نے مسحور کر رکھا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے کئی مترنم غزلیں گونج چکی تھیں اور فراق صاحب کی تقریر کے بعد نوجوان شمسی مینائی نے اپنی نظم سمندر بھی پڑھی اور جگر صاحب جنہوں نے کچھ ہی دن پہلے توبہ کی تھی۔ اپنی وہ غزل بھی پڑھی جس کے چند شعر یاد آ گئے۔

وہ تاب ہستی نہ ہوش مستی کہ شکر نعمت ادا کریں گے
خزاں میں جب ہے یہ اپنا عالم بہار آئی تو کیا کریں گے
جدھر سے گزریں گے سرفروشانہ کارنامے سنائیں گے ہم
وہ اپنے دل کو ہزار روکیں میری محبت کو کیا کریں گے
خود اپنے ہی سوز باطنی سے نکال ایک شمع غیر فانی
چراغ دیر و حرم تو اے دل جلا کئے ہیں بجھا کریں گے

لیکن یہ ہوا کہ مشاعرہ ختم ہونے کے بعد جب سب لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے تو راستے میں نہ جگر صاحب کا ذکر تھا نہ سجاد ظہیر اور شمسی مینائی کا بلکہ موضوع گفتگو فراق صاحب تھے۔ ان کی تقریر میں ہندی کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ ان کے گرما گرم فقرے اور پھر ان کے کردار کی مستانہ تفرقوں پر بے محابہ تبصرہ ہو رہا تھا اور آج 37 برس بعد خیال آتا ہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ انفرادیت، بھیڑ چال والی نفسیات کا رخ موڑ سکتی ہے۔

فراق صاحب اس دور میں غزل گو کی حیثیت سے بہت مقبول نہ تھے۔ حسرت زندہ تھے۔ فالی کی غزلیں لاثانی پن چکی تھیں اور پھر جگر صاحب کی قد آور شخصیت تھی جن کے ساتھ غزل گو شاعر کا ابھرنا تقریباً ناممکن تھا اور پھر یوں بھی وہ دور غزل کا نہیں نظم کا تھا۔

الہ آباد یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد جن احباب سے قربت رہی ان میں مصطفی حسین زیدی ( تیغ الہ آبادی) فراق صاحب کی شاعری سے بہت متاثر تھے اور فراق صاحب نے مصطفی زیدی کے قطعات کے پہلے مجموعہ زنجیریں پر تعارفی مقدمہ بھی لکھا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب تیغ صاحب انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال کے طالب علم تھے اور جب میں بی اے میں آیا تو وہ انٹر کے آخری سال میں تھے۔

میں فراق صاحب کا طالب علم نہیں تھا۔ انگریزی کلاس میں وہ اردو کے شعر سنایا کرتے تھے۔

ان سے بارہا ملا، مشاعروں میں ادبی محفلوں میں۔ دو مشاعروں میں اپنے ساتھ بھی لے گیا لیکن مجھے زیادہ تقرب کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ تحسین نا شناس انھیں میر و غالب انیس و اقبال پر ترجیح دیتے لیکن مجھے ان کی شاعرانہ شخصیت مصحفی کی یاد دلاتی تھی۔ اس فرق کے ساتھ مصحفی مقرر نہیں تھے۔ ورنہ مصحفی کے تذکرے فراق صاحب کی تنقیدیں، مصحفی کا غزل کا تقلیدی انداز، فراق صاحب کا غزل میں میر، فانی ، آرزو ، ریاض خیرآبادی کے اثرات قبول کرنا، مصحفی کی مثنویوں پر میر کا اثر، فراق کی نظموں اور رباعیات پر جوش کا اثر، مصحفی کی جنس زدگی اور فراق کی جنسی کجروی، مصحفی کے اپنے ہم عصروں سے میر کے اور فراق صاحب کے اثر لکھنوی اور علی سردار جعفری سے ادبی مباحث۔

جس بے خوفی حیرت اور بے باکی کے ساتھ وہ ہزاروں کے مجمع کو پھٹکارتے تھے۔ بڑے بڑے لیڈروں کو ڈانٹ دیتے تھے اور پھر انھیں سے خراج تحسین بھی حاصل کرتے تھے۔ یہ انھیں کا وصف تھا اور اسی نے انھیں اردو کا واحد دانشور بنا دیا تھا جس کی ذات میں اتنی صفات جمع ہو گئی تھیں کہ ان کے کردار کا یہ پہلو ان کے کردار کے سلسلہ کی بہت ساری لغزشوں پر حاوی ہوتا تھا۔

(مجاور حسین رضوی کی یادیں‌ اور باتیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں