The news is by your side.

Advertisement

کراچی نوری آباد کے قریب وین میں آتش زدگی، اموات 18 ہو گئیں

کراچی: دو دن قبل سپر ہائی وے پر نوری آباد کے قریب حیدر آباد سے کراچی آنے والی وین میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد آج 18 ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپر ہائی وے وین حادثے کے دو اور زخمی سول اسپتال میں آج دم توڑ گئے، ایک جاں بحق شخص کی شناخت عرفان الرحمان کے نام سے ہوئی ہے۔

ایس ایچ او نوری آباد کی مدعیت میں حادثے کا مقدمہ درج کر لیا گیا، جس میں وین ڈرائیور کو نامزد کیا گیا ہے، اوور ٹیک کر کے حادثے کا سبب بننے والی کار کا ڈرائیور بھی ذمےدار قرار دیا گیا۔ ایس ایچ او نوری آباد نے کہا ہے کہ وین اور کار دونوں کے ڈرائیورز کوگرفتار کیا جائے گا۔

15 لاشیں عباسی اسپتال سے ڈی این اے سیمپل کے بعد ایدھی سرد خانے منتقل کر دی گئیں، ڈی این اے رپورٹ کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی، 3 میتیں سول برنس وارڈ سے ورثا کے حوالے کر دی گئیں، جاں بحق تینوں افراد حیدر آباد لطیف آباد کے رہائشی تھے۔

دو روز قبل موٹر وے پر نوری آباد کے قریب وین حادثے کے وقت گاڑی میں بچوں اور خواتین سمیت 25 مسافر سوار تھے، وین سے دوسری گاڑی کا بونٹ اڑ کر ٹکرایا تھا، جس کے بعد وین کو آگ لگ گئی، جس بونٹ سے حادثہ ہوا وہ بھی جائے حادثے سے مل چکا ہے۔

گزشتہ روز ایک بچی کی لاش بھی برآمد ہو گئی تھی جو پہلے ریسکیو آپریشن کے دوان نظر نہیں آئی تھی، اس کے حوالے سے ریسکیو ذرایع نے بتایا تھا کہ بہ ظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ آگ سے بچانے کے لیے ماں نے بچی کو چادر میں لپیٹ لیاتھا، گزشتہ روز جب خاتون کی لاش سے چادر ہٹائی گئی تو اس میں سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔

حادثے میں تمام میتیں مکمل جھلس چکی ہیں، تمام لاشوں کے ڈی این اے سیمپلز  بھی  لیے جا چکے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں سے تاحال کسی کی بھی حتمی شناخت نہیں ہو سکی ہے، ورثاگھڑی، انگوٹھی بطور نشانی دکھا کر پیاروں کی لاشیں لے جانا چاہتے ہیں، لیکن مکمل ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں