The news is by your side.

Advertisement

شہریت فروخت کرنے والے ملک میں‌ کرونا کا صرف ایک مریض

کرونا کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں، دنیا میں اس وبا کے شکار تعداد میں بڑھ رہے ہیں اور وہ ممالک جو کرونا کی پہلی لہر کا مقابلہ کرنے کے بعد سماجی فاصلے کے تکلّف اور بندشِ عامّہ (لاک ڈاؤن) کے جھنجھٹ سے نکلے، اب اس وبا کی دوسری لہر کا سامنا کررہے ہیں۔

چند ماہ قبل جب دنیا میں‌ کرونا کا شور اٹھا اور یہ وبائی مرض‌ تیزی سے تقریبا ہر ملک کی سرحد عبور کررہا تھا، تو چند ممالک ایسے بھی تھے جنھیں کرونا کا کوئی مریض سامنے نہ آنے کی وجہ سے محفوظ تصور کیا گیا اور وہاں‌ کاروبارِ زندگی معمول پر رہا۔ وانواتو انہی ممالک میں‌ شامل تھا، مگر رواں‌ مہینے وہاں‌ بھی کرونا کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

آئیے وانواتو کی تاریخ‌ سے سماج اور سیاست سے معیشت تک چند لفظی جھلکیاں‌ دیکھتے ہیں اور اس ملک سے متعلق اپنی معلومات میں‌ اضافہ کرتے ہیں۔

یہ ملک آسٹریلیا سے لگ بھگ 1750 کلو میٹر دوری پر مشرق کی طرف واقع ہے۔ یوں‌ سمجھیے کہ اس ملک کے کسی ہوائی اڈّے سے پرواز کرنے والا جہاز دو گھنٹے سے زائد وقت میں آپ کو جزائر پر مشتمل وانواتو تک پہنچا سکتا ہے۔

یہاں‌ جمہوریت کا راج ہے اور اس ملک کا آئین تحریری شکل میں‌ محفوظ ہے۔ وانواتو 80 جزائز پر مشتمل ملک ہے جس کا مجموعی رقبہ 12 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ یہاں کی اکثریت عیسائیت کی پیروکار ہے۔ یہاں‌ مسلمانوں کی تعداد ہزار کے قریب ہے۔

17 ویں صدی عیسوی میں یہ اسپین کے قبضے میں تھا۔ بعد میں ان جزائر پر فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ حکم راںی کی۔ 1980 میں‌ اسے آزادی نصیب ہوئی اور اسی سال برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس اور نیوزی لینڈ نے اس ملک کی ترقی کے لیے بھاری مالی امداد دی۔

وانواتو کے جزائر قدرتی حُسن سے مالا مال ہیں۔ جزائر پر مشتمل اس ملک کی معیشت اپنے قدرتی ماحول، شکار گاہوں‌ اور سیّاحت پر انحصار کرتی ہے۔ فٹ بال یہاں‌ شوق سے کھیلا جاتا ہے۔ قبائلی اور دیہاتی طرزِ زندگی میں روایتی تہوار اور ملبوسات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مشہور ہے کہ ایک پرتگالی مہم جُو اور سیّاح نے 1606ء میں‌ پہلی بار ان جزائر پر قدم رکھا تھا۔

کرونا کے مہلک وبائی مرض نے دنیا بھر میں‌ معیشت پر کاری ضرب لگائی، لیکن وانواتو میں‌ رواں سال جنوری سے لے کر جون تک بجٹ سرپلس 3.33 کروڑ ڈالر رہا۔ یہ اعداد و شمار العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ہیں جب کہ ایک مقامی اخبار وانواتو ڈیلی پوسٹ نے اس اقتصادی استحکام کا سبب چند سال قبل اس ملک کی شہریت فروخت کرنا بتایا۔ اخبار کے مطابق وانواتو کی حکومت نے پاسپورٹ فروخت کرنے کا پروگرام شروع کیا تھا، جس کے بعد ملکی آمدنی میں 6.2 کروڑ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا۔

شہریت پروگرام کے تحت ایک اعشاریہ تین لاکھ ڈالر ادا کرنے پر کوئی بھی اس ملک کا پاسپورٹ حاصل کرسکتا تھا اور اس پروگرام میں‌ کسی کی بھی دل چسپی اور کشش کی وجہ یہ تھی کہ وانواتو کا پاسپورٹ رکھنے والا یورپی یونین کے ممالک میں بغیر ویزے داخل ہو سکتا ہے۔ یعنی اس پاسپورٹ کا سب سے بڑا فائدہ یورپ بھر میں آزادی سے سفر کرنا ہے۔

یہ ملک نومبر کے آغاز تک کرونا سے محفوظ تصور کیا جارہا تھا، لیکن اب یہاں‌ امریکا سے آئے ہوئے ایک شخص سے کرونا منتقل ہونے کی خبر نے حکومت کو تشویش میں‌ مبتلا کردیا ہے۔ اس مریض‌ کو قرنطینہ میں‌ رکھا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں