The news is by your side.

Advertisement

مرتے ہوئے انسانی دماغ کی ریکارڈنگ: سائنسداں بھی حیران رہ گئے

سائنس داں زندگی کے آخری لمحات میں انسانی دماغ میں چلنے والی سرگرمیوں کو جاننے کے قریب پہنچ گئے۔

طبی جریدے فرنٹیئرز ان ایجنگ نیوروسائنس میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی سائنس دانوں نے مرتے ہوئے دماغ کی ای ای جی کے ذریعے ریکارڈنگ کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے۔

سائنس دانوں نے 87 سالہ شخص کے دماغ کی ریکارڈنگ کی جس نے حرکت قلب بند ہونے کے باعث دم توڑا تھا۔

محققین نے بتایا کہ ہم نے موت کے وقت کی 900 سیکنڈ کی دماغی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی اور اس پر توجہ مرکوز کی کہ دل کی دھڑکن رکنے سے 30 سیکنڈ پہلے اور 30 سیکنڈ بعد دماغ پر کیا ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ میں دماغی لہروں کا جو پیٹرن ملا، وہ خواب دیکھنے، یادیں دہرانے اور مراقبے کے دوران دماغی سرگرمیوں سے متشابہ تھا، ان لہروں سے عندیہ ملتا ہے کہ انسانی دماغ آخری لمحات میں زندگی کے اہم لمحات اور واقعات کو فاسٹ فارورڈ فوٹیج کی طرح دیکھتا ہے۔

یونیورسٹی آف لوئی ویل کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انسانی دماغ موت کے بعد بھی کچھ دیر تک متحرک ہوسکتا ہے۔

تحقیق سے سائنس دانوں میں امید کی کرن روشن ہوئی کیوں کہ آخری لمحات میں زندگی کو دوبارہ دہرانے کے عمل کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔

زندگی کے اہم واقعات کو یاد کرنے سے متعلق وہ افراد بھی بتاتے ہیں جو موت کے منہ سے نکل آتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں