The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود میں ایک‌ فیصد اضافہ

آئندہ مالی سال میں مہنگائی میں کمی آئے گی، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کااعلان  کردیا ہے، شرح سود میں ایک فیصد کااضافہ  کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کااجلاس  کے بعد گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹررضا باقر نے پریس کانفرنس میں آئندہ دو ماہ کے لیے  شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

 گورنراسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد  بنیادی شرح سود13اعشاریہ25فیصدہوگئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے  مطابق مہنگائی میں اضافےاورروپےکی قدرمیں کمی کےباعث شرح سود میں اضافے کافیصلہ کیاگیا، اس فیصلےمیں گیس اوربجلی کی قیمتوں میں اضافے کوبھی مدنظررکھاگیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طلب میں کمی کےباعث مہنگائی میں کمی آتی ہے، طلب میں کمی کارحجان دیکھاجارہاہے،ٹیکس کےاطلاق کےباعث قوت خریدمیں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

انہوں نے رواں سال کیلئےافراط زرکی شرح11سے12فیصدتک رہنےکی پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ افراط زرکی پیشن گوئی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہے، آئندہ مال سال میں توقع ہے کہ مہنگائی میں کمی آئےگی۔

 شرح سود آج سے قبل  بارہ اعشاریہ دوپانچ فیصد تھی جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ مئی دوہزار اٹھارہ سےاب تک شرح سود میں مسلسل اضافےکارجحان دیکھا جارہاہے۔ مئی سےاب تک شرح سود میں پانچ اعشاریہ سات پانچ فیصدکااضافہ کیا جاچکا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال کی آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اگلے دو ماہ کے لیے سود کی شرح میں اضافے کافیصلہ کیا تھا۔ مرکزی بینک کی شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق بنیادی شرح سود 12.25 فی صد ہو گئی تھی ۔

اسٹیٹ بینک نے اس موقع پر کہا تھا کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی کے بعد 3 نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر فنڈ سہولت پر اتفاق کیا، اس پروگرام کا مقصد معاشی استحکام بحال کرنا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں