The news is by your side.

Advertisement

پودوں سے تیار ہونے والی دنیا کی پہلی کرونا ویکسین

تین بین الاقوامی کمپنیوں نے مل کر پودوں سے دنیا کی پہلی کرونا ویکسین تیار کر لی ہے۔

سائنس دانوں نے دنیا کی ایسی پہلی کووِڈ ویکسین تیار کر لی ہے جو پودوں پر مبنی ہے، جب کہ کینیڈا اس ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

کینیڈا کے ریگولیٹرز نے جمعرات کو کہا کہ میڈیکاگو کی 2 ڈوز کی ویکسین 18 سے 64 سال کی عمر کے بالغوں کو دی جا سکتی ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں شاٹس کے بارے میں بہت کم ڈیٹا موجود ہے۔

ان کمپنیوں میں جاپان کی میٹسوبشی کیمیکل ہولڈنگز کارپوریشن کی ذیلی شاخ میڈیکاگو، برطانوی کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن اور سوئس امریکی کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل شامل ہیں۔

پودوں سے تیار کردہ اس ویکسین کو کووفینز کا نام دیا گیا ہے، ماہرین نے بتایا کہ اس ویکسین کو کسی جگہ پہنچانا اور محفوظ کرنا کسی ایم آر این اے ویکسین سے زیادہ آسان ہے کیوں کہ اسے بہت کم درجہ حرارت میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس ویکسین کی درآمد اور برآمد میں آسانی اور کم خرچ آئے گا۔

ماہرین کے مطابق اس ویکسین کو پودوں میں پائے جانے والے ایسے پروٹینز سے تیار کیا گیا ہے جو مدافعتی نظام کو کرونا وائرس کی طرح نظر آتے ہیں تاکہ وہ اس سے مقابلے کے لیے تیار ہو سکے، ویکسین میں مدافعتی نظام کے ردعمل کو بڑھانے کے لیے گلیکسو اسمتھ کلائن کے ایک خاص pandemic adjuvant کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈا کو اس ویکسین کی 7 کروڑ 60 لاکھ ڈوز فراہم کرنے کا معاہدہ بھی طے ہو چکا ہے جب کہ میڈیکاگو کی جانب سے دیگر ممالک سے بھی بات کی جا رہی ہے، یہ ویکسین کرونا وائرس کی متعدد اقسام سے تحفظ فراہم کرنے میں 71 فی صد تک مؤثر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں