The news is by your side.

Advertisement

سعودی اسکول میں موسیقی و تھیٹر متعارف کرانے والا پہلا استاد

ریاض : سعودی عرب کے اسکولوں میں موسیقی، تھیٹر، اداکاری، اور مباحثے کی سرگرمیوں کو نصاب محمد عبدالصمد فدا نے سنہ 1960 میں نصاب کا حصّہ بنایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی وزیر تعلیم و ثقافت نے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں موسیقی و تھیٹر کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ریاست سعودی عرب کے شہر جدہ میں 60 برس قبل ہی موسیقی اور تھیٹر ایک اسکول میں بطور نصاب پڑھائے جارہے تھے۔

سعودی شہر جدہ میں قائم الثغر ماڈل اسکول میں سابق ڈائریکٹر محمد عبدالصمد فدا نے 1960 میں تھیٹر، موسیقی، اداکاری، عوامی تقریر اور مباحثہ کی سرگرمیوں کو شامل کیا تھا لیکن واضح رہے کہ الثغر ماڈل اسکول میں لڑکے زیر تعلیم تھے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق محمد عبد الصمد ان اساتذہ میں ایک تھے جنہوں نے اپنے نظم و ضبط اور سختی کے ساتھ ساتھ انگریزی کو بطور زبان پرائمری کلاسوں میں پڑھانا شروع کیا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جس وقت محمد عبد الصمد نے یہ سرگرمیاں شروع کیں اس وقت سعود عرب میں ایسی سرگرمیوں کا کوئی رواج نہیں تھا۔

جمعرات کے روز دو گھنٹے ہونے والی موسیقی کی کلاسوں کو معاشرتی ، ثقافتی ، فنون یا موسیقی میں “غیر نصابی سرگرمی” کہا جاتا تھا۔

محمد عبد الصمد فدا سنہ1923ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے شہر کے الفلاح اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انھیں مصر بھیجا گیا تھا اور الازہر یونیورسٹی میں شریعت کی فیکلٹی میں داخلہ لیا تھا جہاں انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

اب سے موسیقی اور تھیٹر سعودی عرب کے تعلیمی نصاب کا حصّہ ہوگا

وہ سنہ 1950ء میں مصر سے حجاز واپس آئے اسے رابغ شہر میں جج مقرر کیا گیا لیکن وہ تعلیم کے شعبے میں ملازمت کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے جج کی ملازمت قبول کرنے سے معذرت کرلی۔

اس کے بعد سنہ 1951ء سعودی سائنسی انسٹی ٹیوٹ میں بطور استاد تعینات کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں