The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل کی قابل فخر کامیابی، حیران کن داستان

کراچی : پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل نشا راؤ جنہوں نے سڑکوں پر بھیک مانگ کر اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کی، اب تک وہ 50سے زائد مقدمات کی پیروی کرچکی ہیں۔

کہتے ہیں انسان کے سفر میں راستے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں لیکن اگر انسان اپنے مقصد میں سچا اور اس کی لگن پکی ہو تو اللہ تعالیٰ کامیابی کے راستے کھولتا چلا جاتا ہے۔

کچھ اسی طرح پاکستان کی ہونہار طالبہ خواجہ سرا نشاء راؤ کے ساتھ بھی ہوا، انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے کسی بھی مشکل کو آڑے نہیں آنے دیا اور اپنی ہمت  اور بے پناہ  محنت سے وکالت کی تعلیم مکمل کی۔

وطن عزیز کی پہلی خواجہ سرا وکیل نشاء راؤ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اپنی جدوجہد کے بارے میں ناظرین کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ میں کوئی ایسا کام کروں کہ جس سے ملک کا نام روشن ہو اور میں اپنی خواجہ سرا برادری کی بہتری کیلئیے کچھ کرسکوں تو اللہ نے میری مدد کی اور میں کامیاب ہوئی۔

نشا راؤ نے اپنی متاثر کُن کہانی سُناتے ہوئے کہا کہ میں دن میں کلفٹن کی سڑکوں پر بھیک مانگتی تھی اور رات میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کلاسز لینے جایا کرتی تھیں۔ میں دس سال کراچی کی سڑکوں اور سگنلز  پر بھیک مانگنے کے بعد آج اس مقام پر پہنچی ہوں۔

وکالت کی سیڑھی کا سفر کامیابی سے طے کرنے والی 28 سالہ نیشا اب تک خواجہ سراؤں اور دیگر افراد کے50 سے زائد مقدمات نمٹا چکی ہیں اور اس سفر میں انہوں نے کئی نشیب و فراز کا بھی سامنا کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں