The news is by your side.

Advertisement

“زنوں سے مرد بھی ہارے عجب یہ دور آیا ہے”

اردو ادب کا پہلا طنز و مزاح نگار جعفر زٹلی کو تسلیم کیا جاتا ہے اور زٹلی کا زمانہ مغل سلطنت کے مشہور فرماں روا اورنگ زیب کا دورِ آخر ہے۔

اورنگ زیب کی وفات کی وفات کے چند دہائیوں کے اندر ہی سلطنتِ مغلیہ پر انتشار کے آثار نظر آنے لگے۔ تخت نشینی کے لیے سازشیں، جھڑپیں، اور جنگیں شروع ہو گئیں اور یوں‌ مغل پائے تخت کا وقار جاتا رہا جس نے سلطنت کو کم زور کیا۔ اس عرصے میں جو سیاسی صورتِ حال اور انتشار عیاں ہوا اس نے سماج کو بھی متاثر کیا اور جعفر زٹلی وہ شاعر ہیں جنھوں نے اس سیاسی اور سماجی ڈھانچے کے خلاف عوام کی نا آسودگی اور ناراضی کا اظہار احتجاج کی شکل میں کیا۔

اقتدار کی ہوس میں شہزادگان کی لڑائیاں اور ظلم و ستم سے عوام کی پریشانیاں بڑھنے لگیں تو جعفر زٹلی جیسے حساس اور زود رنج شاعر نے طنز اور تنقید کے ذریعے محل سے سماج تک کی کہانی بیان کی ہے

سماجی ناہمواری، فرسودہ رسم و رواج، اخلاقی گراوٹ، بے عملی، قدروں کی پامالی کے ساتھ ساتھ سلطنتِ مغلیہ کے زوال اور اس کے نتیجے میں معاشی ابتری پر جعفر نے قلم اٹھایا ہے۔ البتہ ان کا انداز جارحانہ اور اکثر پھکڑ پن اور ابتذال کا شکار ہے، جس کی ناقدین نے نشان دہی کی ہے۔ تاہم ان کا اپنے دور میں صدائے احتجاج اور آواز بلند کرنا ضرور اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے کلام سے چند اشعار دیکھیے۔

ایک نظم کے اشعار:
ہنر مندان ہرجائی، پھریں در بدر رسوائی
رزل قوموں کی بن آئی، عجب یہ دور آیا ہے
نہ بولے راستی کوئی، عمر سب جھوٹ میں کھوئی
اتاری شرم کی لوئی، عجب یہ دور آیا ہے

سماجی و معاشرتی حالات میں‌ ابتری اور گراوٹ کو اس طرح نمایاں کیا ہے

گیا اخلاص عالم سے عجب یہ دور آیا ہے
ڈرے سب خلق ظالم سے عجب یہ دور آیا ہے
نہ یاروں میں رہی یاری، نہ بھائی میں وفاداری
محبت اٹھ گئی ساری عجب یہ دور آیا ہے
خصم کو جورو اٹھ مارے، گریباں باپ کا پھاڑے
زنوں سے مرد بھی ہارے عجب یہ دور آیا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں