فلیگ شپ ریفرنس: نیب کے تفتیشی افسرکا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے -
The news is by your side.

Advertisement

فلیگ شپ ریفرنس: نیب کے تفتیشی افسرکا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کے تفتیشی افسر کامران کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے۔

خواجہ حارث احتساب عدالت نہ پہنچ سکے، ان کے معاون وکیل زبیر خالد اور شیر افگن کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

تفتیشی افسر کامران احمد نے بتایا کہ 2016 سے نیب راولپنڈی میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات ہوں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ریفرنس دائر کیا، ریفرنسز سے متعلق تمام ریکارڈ اکٹھا کیا۔

تفتیشی افسر کے بیان پرخواجہ حارث کے معاون وکیل نے اعتراض کیا جس پر جج محمد ارشد ملک نے کہا کہ باربار اتنے لمبےاعتراضات نہیں لکھواؤں گا۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ بیان کے دوران بھی اعتراضات کرتے ہیں، وہی اعتراضات جرح میں بھی دہراتے ہیں، بے شک خواجہ حارث کوبلا لیں میں ان سے بات کروں گا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈی جی نیب راولپنڈی نے ریفرنس کی تفتیش مجھے سونپی جبکہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنسز تیار کر کے دائرکرنے کی ہدایت کی۔

کامران احمد نے کہا کہ ایف آئی اے اورنیب ہیڈکوارٹرسے اثاثوں کی تفصیلات کا ریکارڈ مانگا، ایف آئی اے نے جواب میں کہا ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیب ہیڈکوارٹرسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، متعلقہ عدالتی آرڈرز کا جائزہ لیا، جے آئی ٹی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ایف بی آر اور چوہدری شوگر مل سے ملزمان کا ٹیکس ریکارڈ طلب کیا، ایف بی آر اور چوہدری شوگر مل سے قرض کی تفصیلات طلب کیں۔

انہوں نے بتایا کہ کال اپ نوٹس کے ذریعے ملزمان کو طلب کیا، ملزمان کو 18 اگست کونیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا۔

تفتیشی افسر کے بیان پر لمبے اعتراضات پر جج نے نوازشریف کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بیان نہیں ہوتا جتنا اعتراض لکھوا دیتے ہیں۔

معزز جج نے کہا کہ غیر ضروری اعتراضات لکھوانے کی اجازت نہیں دوں گا، وکیل صفائی کی جرح بھی تواعتراض ہی ہوتا ہے۔

عدالت میں گزشتہ روز نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح مکمل کرلی تھی۔

واجد ضیا کا کہنا تھا کہ حسن نواز نے کمپنیوں کے ماڈل سے متعلق وضاحت دی تھی، نواز شریف نے بتایا وہ 2001 سے 2008 تک پاکستان میں نہیں تھے۔

جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 2001 سے 2008 کے دوران انکم ٹیکس نہیں دیا۔

عدالت میں نواز شریف کے بیان کے لیے ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے سوال نامہ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سوالنامہ فراہم کردیں تو اگلے دن جواب جمع کروا دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں