فلیگ شپ ریفرنس: احتساب عدالت نےنیب کونئی دستاویزات پیش کرنےکی اجازت دے دی -
The news is by your side.

Advertisement

فلیگ شپ ریفرنس: احتساب عدالت نےنیب کونئی دستاویزات پیش کرنےکی اجازت دے دی

اسلام آباد : احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں۔

نیب کے تفتیشی افسر محمد کامران آج مسلسل چوتھے روز اپنا بیان قلمبند کروا رہے ہیں۔ وکیل خواجہ حارث کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

خواجہ حارث نے نوازشریف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث نوازشریف پیش نہیں ہوسکتے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

نیب کے اضافی دستاویزات ریکارڈ پرلانے کے لیے دائردرخواست پرسماعت کے دوران خواجہ حارث اورنیب پراسیکیوٹرکی جانب سے دلائل دیے گئے۔

خواجہ حارث نے احتساب عدالت سے 342 کے بیان کے سوالات کی کاپی حاصل کرنے کی استدعا کی جس کی نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے مخالفت کی گئی۔

سردار مظفرعباسی نے کہا کہ 342 کا بیان ملزم کا ہے پہلےسے سوالات نہیں دیے جاسکتے، اس طرح توہم بھی گواہ کوپہلے سے سب سوالات سمجھا دیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال نامہ ملزم کودیا گیا تولیگل ٹیم کی مشاورت سے مکمل تیاری سے آئے گا، خواجہ حارث نے کہا کہ جب آپ بحث ختم کرلیں توبتا دیں۔

سردارمظفرعباسی نے کہا کہ آپ بھی ساتھ ساتھ بحث کرلیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ریفرنس نمبر 18 کی کاپی کے لیے درخواست دی ہے۔

خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی


نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا سوال نامہ نیب کے پاس موجود ہے، یہ ثابت کریں اگر خبرغلط ہے تومیں الفاظ واپس لوں گا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء آدھا آدھا گھنٹہ ریکارڈ دیکھ کرجواب لکھواتے رہے، ہماری باری میں نیب کوپیٹ میں درد ہوجاتا ہے۔

نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ آپ ذاتی حملےکررہے ہیں، ہم قانون پرعمل کریں گے، معزز جج نے خواجہ حارث کو روک دیا اور کہا کہ یہ لڑائی والی بات نہیں اب ختم کریں۔

معزز جج نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹرواثق ملک کوبلا لیں، انہوں نے خواجہ حارث کو کہا کہ آپ جاسکتے ہیں معاون وکیل عدالت میں موجود رہیں۔

عدالت نے نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی


احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

معزز جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے نئی دستاویزات پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے نیب کی درخواست منظور کی۔

دوسری جانب عدالت نے خواجہ حارث کی سوال نامہ دینے سے متعلق درخواست منظور کرلی، معززجج نے ریمارکس دیے کہ پہلے50 سوال آپ کو فراہم کر دیتے ہیں، باقی سوالات ساتھ ساتھ چلیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمیں کہا گیا سوالنامہ نیب کے پاس ہے، ہمارا اس دستاویز سے کوئی تعلق نہیں، معاملہ عدالت کا ہے یہیں ڈسکس ہونا چاہیے۔

سردار مظفرعباسی نے کہا کہ خواجہ صاحب خود خبر پلانٹ کرتے ہیں بعد میں مکر جاتے ہیں۔

خواجہ حارث کو سوال نامہ فراہم کردیا گیا، ابتدائی طور پرملزم نوازشریف کو50 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف پیرکو بطورملزم 342 کا بیان قلمبند کرائیں گے۔

عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران کامران احمد نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حسن نواز کی 18 کمپنیوں کے نام پر17 فلیٹس اوردیگرپراپرٹیز ہیں۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ایم ایل اے معصول ہوا ہے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

معاون وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث اس پردلائل دیں گے، یہ کوئی طریقہ نہیں تفتیشی افسر کے بیان کے دوران نئی درخواست آگئی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں