The news is by your side.

نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈی جی نیب نے7نومبر کو ہی معاملہ نیب ہیڈ کوارٹر ز بھیجا، مجاز اتھارٹی کی منظوری 8 نومبر کو موصول ہوئی۔

استغاثہ کے گواہ محمد کامران نے کہا کہ نئی دستاویزات پیش کرنے پرمجاز اتھارٹی کی منظوری کا خط موجود ہے۔

معزز جج ارشد ملک نے خواجہ حارث کو ہدایت کی کہ غیرضروری باتیں نہ لکھوائیں، جو سمجھ میں آگیا کافی ہے، اہم اورمتعلقہ باتیں لکھوائیں۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ایم ایل اے سے متعلق میں نے متعلقہ افراد کے بیان ریکارڈ نہیں کیے، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے 21 اگست2017 خط کی کاپی ڈی جی نیب لاہورکوبھیجی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ میں نے ایکریڈیشن خط کی کاپی ڈپٹی ڈائریکٹرامورخارجہ اورڈی جی نیب کوبھیجی، خواجہ حارث نے کہا کہ جن لوگوں کویہ خط بھیجے گئے وہ اب بھی نیب کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

محمد کامران نے کہا کہ جی وہ لوگ ابھی بھی نیب کے ساتھ کام کر رہے ہیں، نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے 21 اگست2017 کے خط میں دیگرخطوط کا حوالہ نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ درست ہے دیگر خطوط کا حوالہ نہیں البتہ ایم ایل اے کا ریفرنس نمبر موجود ہے۔

معزز جج ارشد ملک اور خواجہ حارث میں مکالمہ


احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ میاں نوازشریف کا بیان آج ہی قلمبند کرلیتے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کل نوازشریف کا بیان قلمبند کرنا شروع کردیتے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سوالات پیچیدہ ہیں لیکن ہمیں اس پراعتراض نہیں، بیان کے لیے تمام ریکارڈ دیکھنا پڑرہا ہے، کل تک کا وقت دیں۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا 342 کا بیان کل قلمبند کیا جائے گا۔

محمد کامران نے سماعت کے دوران کہا کہ نیب کی تحقیقات کا اپنا طریقہ کاراور ایس او پی ہوتا ہے، تحقیقاتی ٹیم تفتیشی افسر، کیس افسر اور لیگل کنسلٹنٹ پرمشتمل ہوتی ہے۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں تحقیقاتی ٹیم مجازاتھارٹی کی جانب سے بنائی گئی، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ اس ریفرنس کی تحقیقاتی ٹیم میں کون کون شامل تھا۔

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ میں اس ریفرنس کا تفتیشی تھا، نذیرجونیجو کیس افسر تھے، ریفرنس میں لیگل کنسلٹنٹ محمد عرفان تھے۔

محمد کامران نے کہا کہ ریفرنس دائرکرنے کے بعد تفتیش میں نئی پراپرٹیزسے متعلق پتہ لگایا، حسن اور حسین نوازکوبیرون ملک ایڈریس پرکال اپ نوٹس نہیں بھجوایا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ حسن اورحسین نوازکا بیرون ملک پتہ معلوم تھا، حسن نوازنے2007 میں برطانوی شہریت حاصل کی جبکہ حسین نواز2000 سے پاکستان میں رہائش پذیرنہیں ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ جےآئی ٹی رپورٹ سے پتہ چلا دونوں پاکستان کےغیرمستقل شہری ہیں، کال اپ نوٹسزمیں نے تیارکیے، کال اپ نوٹسزپرحسن اور حسین نوازکے بیرون ملک ایڈریس نہیں لکھے۔

احتساب عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے آغاز پر معزز جج نے خواجہ حارث سے استفسار کیا تھا کہ نواز شریف اپنا 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہیں؟۔

خواجہ حارث نے جواب دیا تھا کہ جی نہیں، نوازشریف آج بیان کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے پچھلے بیان پرکچھ اعتراضات ہیں وہ ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ اعتراضات اگر لکھے ہوئے ہیں تو دے دیں۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا تھا کہ اعتراضات علیحدہ سے لکھوا کرحصہ بنا لیتے ہیں، خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ دو تین چیزیں ہیں وہ لکھوا دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں