The news is by your side.

کاچھو میں سیلاب سے سینکڑوں گاؤں ڈوب گئے: ’بارش نہ ہو تو تکلیف، ہوجائے تو دہرا عذاب‘

رپورٹ: فریحہ فاطمہ / جی ایم بلوچ

پاکستان میں مون سون کے حالیہ اسپیل نے ملک کے بیشتر حصے کو شدید متاثر کیا ہے اور متعدد علاقوں میں سیلاب آچکا ہے، ان گنت علاقے تباہی و بربادی کی تصویر بن چکے ہیں۔

بارشوں کے حالیہ سلسلے نے جہاں صوبائی دارالحکومت کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کردی وہیں سندھ کے دیگر حصے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور کاچھو کا علاقہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔

سندھ کے ضلع دادو میں واقع کاچھو کا علاقہ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں ہے اور یہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کا سرحدی علاقہ ہے، سندھ اور بلوچستان کے درمیان موجود یہ قدرتی سرحد یعنی کیرتھر کے پہاڑ 9 ہزار اسکوائر کلو میٹر طویل ہیں اور سندھ کی طرف اس کا سب سے بڑا علاقہ کاچھو کہلاتا ہے جو سندھ کے 2 اضلاع دادو اور قمبر شہداد کوٹ پر محیط ہے۔

کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ

انتظامی طور پر یہ علاقہ 9 یونین کاؤنسلز میں تقسیم ہے جس میں چھوٹی بڑی بے شمار آبادیاں ہیں اور اندازاً یہاں کی آبادی 2 سے ڈھائی لاکھ کے قریب ہے۔ یہ علاقہ بارانی ہے اور یہاں کے رہائشی فصل کی افزائش اور پینے کے لیے بارش کے پانی کے محتاج ہیں۔

ہر سال بارشوں کے دوران کیرتھر کے پہاڑوں سے پانی مختلف چھوٹی بڑی ندیوں کی صورت میں بہہ کر آتا ہے، یہاں کی سب سے بڑی ندی نئیں گاج کے نام سے ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران پہاڑوں سے پانی کا بہہ کر آنا، اور پھر وہاں سے سندھ کی منچھر جھیل میں چلے جانا، معمول کا قدرتی عمل ہے لیکن گزشتہ 2 سال سے، اور اب یہ تیسرا سال ہے جس میں پانی کی مقدار اس قدر ہے کہ پورا علاقے میں سیلاب آچکا ہے۔

تمام زمینی راستے منقطع

ضلع دادو میں سرگرم عمل صحافی اور سماجی کارکن رشید جمالی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 1 ماہ سے بلوچستان میں ہونے والی بارشوں سے مستقل پانی یہاں آرہا ہے، کیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والے پانی اور یہاں کی سب سے بڑی ندی نئیں گاج کے اوور فلو سے علاقہ زیر آب آچکا تھا، اور اب ہونے والی بارشوں کے بعد بے شمار گاؤں سیلاب کے پانی میں گھر چکے ہیں اور آس پاس کے علاقوں سے ان کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔

ان کے مطابق بارش کے کچھ روز گزرنے کے بعد کچھ دیہات ایسے بھی ہیں جہاں پانی تو اتر گیا، لیکن اب وہاں دلدل اور کیچڑ ہوچکی ہے اور اب وہاں نہ تو کوئی کشتی جا سکتی ہے نہ ہی کوئی گاڑی۔

رشید پچھلے کچھ روز سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں ایک قریبی گاؤں میں کھانا پہنچا رہے ہیں، کیچی شاہانی نامی یہ گاؤں بھان سعید آباد سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

گاؤں کیچی شاہانی

رشید نے بتایا کہ صرف کیچی شاہانی میں اس وقت 600 کے قریب افراد موجود ہیں جن میں 200 بچے بھی ہیں، فی الوقت یہ تمام لوگ کھانے سے بھی محروم ہیں جبکہ اب بارش کے بعد وبائی امراض بھی پھیلنا شروع ہوگئے ہیں جن کے سدباب کے لیے کوئی طبی سہولیات موجود نہیں۔

کیچی شاہانی کے رہائشی حاجی محمد خان کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں گزشتہ 1 ماہ سے سیلابی پانی کھڑا ہے، تاحال کسی حکومتی نمائندے نے جھانک کر نہیں دیکھا، گاؤں والوں کے پاس نہ کھانا ہے، نہ راشن نہ کوئی طبی سہولت۔ یہاں سے نقل و حرکت کے لیے واحد ذریعہ کشتی ہی ہے جس کے ذریعے وہ طویل راستہ طے کر کے قریبی شہر تک جا سکتے ہیں اور راشن یا ادویات لا سکتے ہیں۔

گاؤں کی رہائشی ایک خاتون نوراں بی بی نے بتایا کہ ان کا گزر بسر کھیتی باڑی پر ہے جس کے لیے بارش درکار ہے، بارش نہ ہو تو بھی وہ فاقے کرتے ہیں، ہوجائے تو سیلاب کی صورت میں دہرا عذاب ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں عام حالت میں بھی اسپتال، ڈاکٹر یا طبی سہولیات کا نام و نشان نہیں۔ کوئی شدید بیمار ہو یا کسی خاتون کی ڈلیوری ہو تو کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے جوہی شہر تک جانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اکثر یا تو مریض راستے میں دم توڑ جاتا ہے یا پھر سواری میں ہی بچے کی پیدائش ہوجاتی ہے۔

امدادی کارروائیوں کے حکومتی دعوے

ڈپٹی کمشنر دادو سید مرتضیٰ شاہ کا دعویٰ ہے کہ سیلاب کے بعد انتظامیہ کی ٹیمیں پورے علاقے میں متحرک ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کاچھو کی 9 یونین کاؤنسلز میں چھوٹی بڑی بے شمار آبادیاں ہیں، سینکڑوں گھروں پر موجود گاؤں بھی ہیں اور چھوٹی چھوٹی سیٹلمنٹس بھی جن میں 10، 12 یا 20 گھر ہیں، یہ سب ملا کر اس علاقے میں 900 سے 1 ہزار کے قریب گاؤں ہیں جن میں 30 ہزار گھرانے اور 2 سے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک کیے گئے سروے کے مطابق حالیہ سیلاب سے کاچھو کے 251 گاؤں متاثر ہوئے ہیں، پورے ضلع دادو میں 500 کے قریب مکانات منہدم ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کاچھو میں ہیں، جبکہ پورے ضلعے میں مختلف حادثات سے 6 اموات ہوچکی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہر دفعہ بارشوں میں کیرتھر کے پہاڑوں سے پانی آتا ہے، چند گھنٹے وہاں رہتا ہے اس کے بعد منچھر جھیل میں چلا جاتا ہے، تو گاؤں والوں کے لیے یہ عام سی بات ہے، لیکن گزشتہ کچھ سال سے بارشوں کا پانی باقاعدہ سیلاب میں تبدیل ہورہا ہے اور پورا علاقہ زیر آب آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے دوران کاچھو میں 16 مقامات پر، جو بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہاں سے انخلا کیا جانا ضروری تھا، مقامی افراد کو سرکاری کشتیاں مہیا کی گئی تھیں، لیکن وہ کشتیاں گاؤں والوں کی طرف سے انخلا کے بجائے نقل و حرکت کے لیے استعمال کی گئیں۔ ضلع بھر میں جہاں جہاں ریلیف کیمپس لگائے گئے تھے ان مقامات کے بارے میں بھی نوٹیفائی کردیا گیا تھا تاہم کاچھو کے لوگوں نے اپنے گھر چھوڑنے سے گریز کیا۔

ڈی سی کے مطابق علاقے میں میڈیکل ٹیمز کو بھی متحرک کردیا گیا ہے جو بارشوں کے بعد پھیلنے والے وبائی امراض کی دوائیں، دیگر طبی امداد اور مویشیوں کی ویکسینز فراہم کر رہی ہیں، متعدد ایسے خاندان جن کے گھر گر گئے تھے انہیں خیمے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اب تک 15 سو خاندانوں کو راشن فراہم کیا جاچکا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ کے مطابق 20 جون سے 31 جولائی 2022 تک ہونے والی بارشوں کے دوران صوبے میں 105 افراد جاں بحق اور 74 زخمی ہوچکے ہیں، 408.6 کلومیٹر کی سڑکیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ 3 لاکھ 70 ہزار 143 ایکڑز پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

مستقبل میں کاچھو کو سیلاب سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

کیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والا پانی اب عام حالات کے برعکس سیلاب کا سبب بن رہا ہے، اور گزشتہ 3 سال سے یہی صورتحال ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، کیا صوبائی حکومت کے پاس اس کا کوئی مستقل حل ہے؟

اس کے جواب میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کاچھو سے 6 سڑکیں ہیں جو اسے دیگر علاقوں سے جوڑتی ہیں جن میں واہی پاندھی، جوہی، چھنی، حاجی خان، ڈرگھ بالا اور شاہ حسن شامل ہیں، یہ چھ کے چھ راستے بارشوں میں زیر آب آجاتے ہیں اور کاچھو کا رابطہ دیگر صوبے سے کٹ جاتا ہے۔

ان کے مطابق کم از کم 3 راستوں پر پل بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں جس میں سے ایک ڈرگھ بالا میں بنایا جانے والا پل منظور کیا جاچکا ہے، 10 کروڑ روپے کی لاگت سے اس پل پر رواں برس تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا جس کے بعد سیلاب کے دوران بھی کاچھو تک جانے والے راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں