The news is by your side.

’ایک ماہ کے آذر کی جان بچائیں‘ سندھ کے سیلاب متاثرین بے یارو مددگار

حیدرآباد:  نوشہروفیروز سے حیدرآباد آنے والے سیلاب متاثرین کے کیمپ میں ایک ماہ کے  بیمار بچے آذر کی جان خطرے میں آگئی۔

اس وقت پورا ملک سیلابی صورتحال سے دو چار ہے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش سیلاب زدگان کی کہانیاں، خبریں، تصویریں اور وائرل ویڈیوز دیکھ کر لوگوں کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے سیلاب متاثرین کیمپ میں ایک ماہ کا بچہ آذر امداد کا منتظر ہے۔

انتظامیہ کی امداد کے منتظر ہیں، متاثرین

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق قاسم آباد اولڈ وحدت کالونی کے اسکول میں 200 سے زائد سیلاب متاثرین پناہ لیے ہوئے ہیں اور حکومتی امداد کا انتظار کررہے ہیں۔

کیمپ میں موجود ایک ماہ کے بیمار بچے آذر کے لیے نہ دوائیں ہیں اور نہ ہی پینے کے لیے دودھ ہے، ماں اپنے لخت جگر کے لیے پریشان ہیں جبکہ انتظامیہ اسکول میں چھوڑ کر چلی گئی کمروں میں تالے لگے ہوئے ہیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی امداد کے منتظر ہیں لیکن کمروں میں تالے لگا کر ہمیں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا نمائندہ اے آر وائی نیوز سے رابطہ

صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ آپ کے نمائندے زاہد کلہوڑو سے گفتگو ہوئی ہے ڈپٹی کمشنر کو کہا ہے کہ ننھے بچے کو غذا اور دوائیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کے اکاؤنٹ میں فنڈز بھیج دیے ہیں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا اور ان کی دیکھ بھال ہمارا فرض ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام صورت حال کو مانیٹر کیا جارہا ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

حیدرآباد کے شہری کس طرح  گھروں میں محصور

علاوہ ازیں حیدرآباد میں بارش کا سلسلہ تھم گیا مگر رہائشی آبادی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور نکاسی آب کے لیے انتظامیہ نہیں نظر نہیں آرہی ہے۔

فضائی منظر میں دیکھا گیا کہ حیدرآباد کے شہری کس طرح اپنے گھروں میں محصور ہیں اور ان کا گھروں سے نکلنا محال ہے جبکہ لوگوں کو غذائی قلت کا بھی سامنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں