The news is by your side.

سکھر میں سیلاب سے تباہی، غریب رکشہ ڈرائیور کی دُنیا اُجڑ گئی

ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 1162 ہوگئی جبکہ 3 ہزار 554 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔

سندھ کے بیشتر شہروں میں خیرپور، سکھر، بدین، دادو میں سیلاب متاثرین کے گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے جس کے باعث متاثرین دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ کئی شہروں میں بارشوں اور سیلاب کے بعد مختلف حادثات و واقعات میں شہری جاں بحق ہوئے۔

سیلاب کی تباہی کے بعد سے افسوسناک خبریں سامنے آرہی ہیں جہاں باپ اور بیٹی سیلابی سیلے میں بہہ کر زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

سندھ کے شہر سکھر میں بھی بارشوں اور سیلاب سے جہاں سیکڑوں گھر تباہ ہوئے وہیں احمد نگر علاقے کے غریب رکشہ ڈرائیور عمران پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز جہانزیب ویسڑ کے مطابق احمد نگر میں گھر کی چھت گرنے سے تین بچوں کی ماں انتقال کرگئی جبکہ حادثے کے نتیجے میں گھر میں موجود قیمتی سامان بھی تباہ ہوگیا۔

بے بس رکشہ ڈرائیور بچوں کے ساتھ اب بھی اسی ٹوٹے پھوٹے گھر میں دن گزار رہا ہے جبکہ تاحال ان تک کوئی حکومتی امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

متاثرہ شہری عمران کا کہنا تھا کہ میرا گھر مکمل تباہ ہوگیا ہے بچوں کے ساتھ ٹوٹے گھر میں رہنے پر مجبور ہیں یہاں مچھروں کی بہتات ہے لیکن کوئی تاحال مدد کو نہیں پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ رکشہ چلا کر بچوں کا پیٹ پال سکتا ہوں لیکن گھر کو دوبارہ تعمیر نہیں کرسکتا ، رکشہ ڈرائیور نے اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں