The news is by your side.

Advertisement

اولمپکس مقابلوں کی کم عمر فاتح “فلو جو” سے ملیے

فلورنس گرفتھ جوئنر کو دنیا فلو جو کے نام سے بھی پہچانتی ہے۔ کھیل کی دنیا میں ایتھلیٹ کی حیثیت سے شہرت پانے والی فلو جو زندگی کی محض 38 بہاریں دیکھ سکیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے رواں برس کھیلوں کے اولمپک مقابلوں کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ فلو جو ماضی میں کھیلوں کے اسی میدان کی فاتح رہی ہیں۔ لمبی دوڑ کے مقابلوں میں انھیں تیز رفتار کھلاڑی کے طور پر شہرت ملی اور مسلسل فتوحات نے انھیں دنیا بھر میں پہچان دی۔

فلورنس گرفتھ جوئنر 1959 میں امریکا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق لاس اینجلس سے تھا جہاں یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسپورٹس کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہارشروع کیا اور چودہ سال کی عمر میں نیشنل یوتھ گیمز میں شرکت کر کے کام یابی حاصل کی۔

1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں ایک سلور میڈل جیتنے کے بعد فلورنس نے مقابلوں میں حصہ لینا بند کر دیا تھا۔

1987 میں فلو جو نے اسی دور کے مشہور ایتھلیٹ ایل جوئنر سے شادی کر لی اور اسی سال روم میں منعقدہ ورلڈ چیمپئن شپ میں دوبارہ نظر آئیں۔ ان مقابلوں میں انھوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

1988 کے سیول اولمپکس کا میدان سجا تو اس میں حصہ لے کر تین گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل اپنے نام کیا۔

کھیل کی دنیا میں نام اور مقام بنانے کے بعد اچانک ہی ان پر ماڈلنگ کا جنون سوار ہوا اور پھر کاروبار شروع کردیا۔ یہ تجربات کرتے ہوئے اچانک ہی تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئیں۔

ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک زرخیز ذہن کی مالک اور نہایت متحرک خاتون تھیں۔ انھیں ہر روپ میں اور ہر شعبے میں کام یابی ملی اور لوگوں نے بے حد عزت اور احترام دیا۔

فلورنس گرفتھ جوئنر 1998 میں ابدی نیند سو گئیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں