The news is by your side.

Advertisement

آٹا، چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ، وفاقی کابینہ میں رد و بدل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے آٹا، چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کر کے اکنامک افیئر کی وزارت سونپ دی گئی جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی کا وزیراعظم نے استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور ان کی جگہ ایم کیوایم کے امین الحق کو ٹیلی کمیونی کیشن کا قلمدان دے دیا گیا ہے۔

فخرامام کو وزارت فوڈ سیکیورٹی کا قلمدان دیا گیا ہے اور بابر اعوان کی کابینہ میں واپسی ہوئی ہے انہیں وزیراعظم کے پارلیمانی امور کا مشیربنایا گیا ہے۔

اسی طرح حماداظہر کو وزیر صنعت کاقلمدان سونپا گیا ہے جب کہ وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

قبل ازیں چینی بحرن کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیے جانے کے بعد جہانگیر ترین کو چیئرمین زرعی ٹاسک فورس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

جہانگیر ترین نے تحقیقاتی رپورٹ کو سیاسی اور ذات پر حملہ قرار دے دیا

دوسری جانب جہانگیر ترین نے تحقیقاتی رپورٹ کو سیاسی اور ذات پر حملہ قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے پیچھے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان ہیں، مجھے ٹارگٹ بنانے کے لیے نامکمل رپورٹ جاری کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں سے ملازمین کو تحقیقات کے لیے بلایا گیا، اعظم خان وزیراعظم کے گرد حصار بنا کر مرضی کے فیصلے کررہے ہیں، کمیشن نے ذمہ دار ٹھہرایا تو چیلنج کریں گے۔

چینی ایکسپورٹ یا امپورٹ ہوئی یا نہیں، تحقیقات کا دائرہ وسیع

ایف آئی اے نے مختلف شوگر ملز پر چھاپے مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا، ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ متعدد شوگر ملز کے ریکارڈ فرانزک کے لیے بھجوا دئیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی، گندم اسٹاک کے حوالے سے ریکارڈ فرانزک کے لیے بھجوایا گیا ہے۔

ایف آئی اے کی جہانگیر ترین کے چیف فنانشل آفیسرسے بھی تحقیقات

آٹا چینی بحران کے معاملے پر ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کے چیف فنانشل آفیسر سے بھی تحقیقات کی ہے،ایف آئی اے اہلکار 20 مارچ سے جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود ہیں۔

جہانگیر ترین نے بھی ایف آئی اے اہلکار کی جانب سے ریکارڈ تحویل میں لینے کی تصدیق کردی ہے، ایف آئی اے اہلکاروں نے دفاتر سے ریکارڈ، کمپیوٹر بھی تحویل میں لے لیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں