امریکا، پاکستان کے تعلقات اہم موڑ میں داخل ہوچکے ہیں، شاہ محمودقریشی
The news is by your side.

Advertisement

امریکا، پاکستان کے تعلقات اہم موڑ میں داخل ہوچکے ہیں، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے امریکا، پاکستان کے تعلقات اہم موڑ میں داخل ہوچکے ہیں، پاکستان پرانگلیاں اٹھانےکی بجائے کردار کو سراہاجارہا ہے۔

تفصیلات ک مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دورہ جرمنی کے لیے روانہ ہوگئے، وہ میونخ میں گلوبل سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے جبکہ افغان صدر اور امریکی سینیٹرز کے وفد سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

شاہ محمودقریشی نے میونخ کےدورہ پر روانگی سے قبل میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا گلوبل سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے جرمنی روانہ ہورہا ہوں، کانفرنس میں بہت سے ممالک ، وزرائے خارجہ و دفاع، سیکیورٹی ماہرین شرکت کرتے ہیں اور عالمی سیکیورٹی سے متعلق مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے۔

میں افغانستان سے متعلق پاکستان کےنقطہ نظرکوسب کے سامنے رکھوں گا

شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ نے کہا کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے جارہا ہوں، افغانستان پوری دنیا میں اس وقت زیر بحث ہے، میونخ میں افغان صدراشرف غنی تشریف لارہے ہیں، ایک پینل ڈسکشن میں وہ افغانستان کانقطہ نظرپیش کریں گے اور میں پاکستان کےنقطہ نظر کو سب کے سامنے رکھوں گا۔

ان کا کہنا تھا امریکی کانگریس کے وفد سے بھی ملاقات متوقع ہے، امریکا ، پاکستان کے تعلقات اہم موڑمیں داخل ہوچکے ہیں، پہلے دن سے کوشش تھی تعلقات کو ازسرنو استوار کیا جائے، تعلقات کی بہتری میں الحمداللہ پیشرفت ہورہی ہے۔

امریکاکےحالیہ بیانات انتہائی مثبت ہیں

وزیرخارجہ

شاہ محمودقریشی نے کہا امریکا کے حالیہ بیانات انتہائی مثبت ہیں، پاکستان پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے کردار کو سراہا جارہا ہے، پاکستان کی افغان امن کے لیے کوششوں کو سراہا جارہاہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کانفرنس میں روس، جرمنی، کینیڈا اور ازبکستان وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات ہوگی۔

افغان قیادت کوافغان عوام کے مسائل پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے‘ شاہ محمود قریشی

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سمیت متعدد رہنماؤں نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کے اندورنی معاملات پرتبصرے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر کی ٹویٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ہمارے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں، افغان قیادت کو چاہیے کہ افغان عوام کے دیرینہ مسائل اور مصائب پر توجہ دے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں