The news is by your side.

Advertisement

ہمیں 19مئی تک چوکنارہناہوگا ، مودی سرکار سے کچھ بعید نہیں، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، ہمیں 19مئی تک مودی سرکار سے چوکنا رہناہوگا اور  اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی، مودی سرکار سے کچھ بعید نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا نیوزی لینڈمیں 9 شہریوں سے متعلق علم نہیں ہے، ہائی کمشنر سے بات ہوئی، انہوں نے زخمیوں کو دیکھا، کچھ زخمی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، صرف ایک زخمی پاکستانی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کرائسٹ چرچ کےپولیس چیف سےسفارتخانہ رابطےمیں ہے، متاثرہ پاکستانیوں کےحوالے سے اہل خانہ پریشان ہیں، نیوزی لینڈ کے حکام جاں بحق افراد سے متعلق تفصیلات دینے والے ہیں، امید ہے تھوڑی دیر میں نیوزی لینڈ کی جانب سے تفصیل جاری کردی جائے۔

نیوزی لینڈحکام کی جانب سے تفصیل دینےقبل کچھ کہنامناسب نہ ہوگا

شاہ محمود قریشی نے کہا لاپتہ پاکستانی موبائل فون نہیں اٹھارہے ،تشویش بجاہے، نیوزی لینڈحکام کی جانب سے تفصیل دینے قبل کچھ کہنا مناسب نہ ہوگا،ہمارا کام ہے، ہم سب دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑے ہوں، لندن کا واقعہ بالکل صحیح خبر ہے، پورے یورپ میں اسلامو فوبیا کی لہر ہے، تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے رویہ مناسب نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی اقلیتوں کی حفاظت کی بات کرتےہیں ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت ضروری ہے، دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، نیوزی لینڈ میں  ایسا واقعہ پہلے نہیں ہوا، میری اطلاع کے مطابق واقعے میں ملوث خاتون سمیت 4افرادگرفتار ہوئے، ہمارے لیے سب سے اہم معاملہ لاپتہ پاکستانیوں کاہے، لاپتہ پاکستانی نہیں مل رہے، میری تشویش بڑھ رہی ہے۔

ہمارےلیےسب سےاہم معاملہ لاپتہ پاکستانیوں کاہے، لاپتہ پاکستانی نہیں مل رہے،میری تشویش بڑھ رہی ہے

پاک بھارت تعلقات پر وزیرخارجہ نے کہا کرتارپورراہداری پرپاک بھارت کا مشترکہ اعلامیہ اچھی پیش رفت ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے، بہت عرصے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا بھارت میں الیکشن کامرحلہ 19مئی کوختم ہوگا، ہمیں 19 مئی تک مودی سرکار سے چوکنا رہناہوگا، ہمیں اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی، مودی سرکار سے کچھ بعید نہیں، کل پاک بھارت میں کشیدگی مزید کم کرنے کے لیے کل چین جارہاہوں، میری چین میں وہاں کی قیادت سےملاقاتیں بھی ہوں گی۔

میری خواہش ہےکہ ہم امریکا سےعافیہ صدیقی کوحاصل کرنےمیں کامیاب ہوں

انھوں نے مزید کہا قیاس آرائیاں کرناآسان ہے،سوشل میڈیامیں بہت چیزیں حقائق کےبرعکس ہیں، میری خواہش ہےکہ ہم امریکا سےعافیہ صدیقی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں، میری رائےمیں اس معاملے پر خاموشی اختیار کی جائےگی تو فائدہ ہوگا، اگر شور کیا جاتا رہا تو میری رائےمیں اس سے معاملے کو نقصان ہوگا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یورپ میں شہریوں کو سیکیورٹی دینا وہاں کی حکومت کی ذمےداری ہے، ہماری توقع ہے یورپ میں مسجدیں کھلی اورعبادت جاری رہےگی۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا پہلی باربھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو ریاستی دہشت گردی کہا جارہا ہے، ہم مسئلہ کشمیر  پر اپنا ساتھ دینے والےممالک کے شکرگزارہیں، جب بنیادی حقوق پامال کیے جاتے ہیں تو اس کا ردعمل ضرورآتاہے۔

پہلی باربھارت کے مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کوریاستی دہشت گردی کہاجارہاہے

ان کا کہنا تھا دیکھناچاہیےکہ پلومہ حملےمیں ملوث نوجوان کی کس طرح تذلیل کی گئی، مقبوضہ کشمیرمیں شہری اور خواتین ننگے سر اور ننگے پاؤں احتجاج کر رہے ہیں، ہم نے اپنی کوشش سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے، میری اقوام متحدہ میں 29 ستمبر کو تقریر مسئلہ کشمیر کا ذکر بھرپور اندازمیں تھا۔

وزیرخارجہ نے کہا میں نے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو مدعو کیا،تمام جماعتوں کو دعوت دی، سب کوبلانے کا مقصد یہ تھاکہ مسئلہ کشمیر پر اپنا مؤقف کس طرح آگے لے کر چلیں، میں کسی بھی ایسی کارروائی کا ذکر نہیں کروں گا، جسے خفیہ رکھا گیا، بھارتی حکام بند کمروں میں ہونے والے اجلاسوں کی خبر بھی دے دیتے ہیں۔

 روس کی دونوں ممالک کو ساتھ بٹھانے کی تجویزسےاتفاق کیا

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا پاکستان اوربھارت دونوں ایس سی اوکےرکن ہیں، کشیدگی کےمعاملےکوایس سی او کے پلیٹ فارم پر اٹھایا جاسکتاہے، روس کی دونوں ممالک کو ساتھ بٹھانے کی تجویز سے اتفاق کیا، روس سے کہا ہم تیار ہیں آپ بھارت سے بات کرلیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں