The news is by your side.

Advertisement

‘بھارتی جاسوس کلبھوشن تک قونصلر رسائی، مودی سرکار کی بدنیتی کھل کر سامنے آگئی’

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن تک قونصلر رسائی پر مودی سرکار کی بدنیتی کھل کر سامنے آگئی ہے، یادیو پکارتا رہا سفارتکار بھاگتے رہے، رویہ حیران کن تھا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا بھارتی سفارتکار کلبھوشن کی کوئی بات سنے بغیرچلے گئے، پاکستان کی جانب سے تمام سہولیات فراہم کرنے کے باوجود بھارتی سفارتکار بھاگ گئے، وہ کلبھوشن سےبات کرنے سے کتراتے رہے، کلبھوشن پکارتا رہا اور بھارتی سفارتکاردم دبا کر بھاگ گئے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی بدنیتی کھل کر سامنے آگئی ، یہ رسائی نہیں چاہتے تھے، انہیں شیشے پراعتراض تھا، وہ بھی ہٹادیا، تمام خواہشات پوری کرنے کے باوجود سفارتکاروں نے بات نہیں کی، ہم نے یہ بھی کہا ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہٹا دیتے ہیں، بالکل تنہا نہیں چھوڑسکتے تھے، پتہ نہیں کیا کرلیتے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یادیو پکارتا رہا سفارتکار بھاگتے رہے،رویہ حیران کن تھا، بھارت کی نیت رسائی نہیں تھی، انہیں جنیواکنونشن میں پاکستان کو بدنام کرناتھامگر پاکستان نےانہیں کوئی موقع نہیں دیا۔

گذشتہ روز پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو دوسری بارقونصلر رسائی فراہم کی تھی اور کہا تھا پاکستان عالمی عدالت کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کررہا ہے، بھارت سےامید ہے وہ بھی فیصلے پرپاکستان سے تعاون کرے گا۔

دفترخارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی درخواست پر آج دوسری قونصلر رسائی دی گئی، کلبھوشن کو پہلی قونصلررسائی 2 ستمبر 2019 کو دی گئی تھی جبکہ 25 دسمبر2017 میں کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کرائی گئی تھی۔

یاد رہے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، کلبھوشن نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، باضابطہ مقدمہ چلایا گیا اور 2017ء میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں