The news is by your side.

Advertisement

‘بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی اور افغان امن عمل میں اسپائیلر کا کردار ادا کر رہا ہے’

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی اور افغان امن عمل میں اسپائیلر کا کردار ادا کر رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو، ہم بھارت کے عزائم کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت خطےکا امن تہہ و بالا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے.

وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت افغان امن عمل میں اسپائیلر کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو تاہم پاکستان ہر سفارتی محاذ پر بھارت کا مقابلہ کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کاواویلا ہے ، بطورسلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بڑی کامیابی ملی، پاکستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن اور پاکستان کواہم ذمہ داریاں ملیں ، سلامتی کونسل میں 30کے قریب کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں ہوتی ہیں ، غیر مستقل رکن ہونےکےناطے بھارت کوذمہ داریاں ملنا اچنبھے کی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی1267 کی قدغن لگانے والی کمیٹی کارکن بنانے کی خواہش ناکام ہوئی ، بھارت کوجوہری ہتھیاروں کی روک تھام کی کمیٹی کی صدارت نہیں ملی اور نہ ہی افغانستان کے حوالے سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ثبوت پی 5 سمیت سامنے رکھے ، ہم بھارت کے عزائم کو بے نقاب کرتے رہیں گے ، اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی سطح پر اپنے دوستوں سے رابطے میں ہیں۔

نئی امریکی حکومت کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نومنتخب امریکی صدرجوبائیڈن خطےسےواقف ہیں، نئی امریکی انتظامیہ کوبھی انگیج کریں گے، عنقریب نئے سیکرٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن کو خط لکھوں گا۔

اپوزیشن سے متعلق انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک مختلف الخیال لوگوں کا منفی اتحاد ہے ، پی ڈی ایم کا مقصد حکومت کو زک پہنچانا اورکرپشن کیسز سے چھٹکارا ہے، مولانا کے2بڑے اعلانات تھے ایک مستعفی ہونادوسرا لانگ مارچ ، استعفوں پرتو پیپلز پارٹی پہلے اور اب ن لیگ بھی پیچھے ہٹ گئی ہے اب لانگ مارچ پر بھی ان کا اتفاق نہیں ہے۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 31جنوری کی ڈیڈلائن ختم ہو گی تویہ مل بیٹھیں گے اور فیصلہ کریں گے ، تمام باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی صفوں میں اتحاد نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں