The news is by your side.

Advertisement

دفترِخارجہ کا افغان صدرکودوٹوک جواب

اسلام آباد: دفترخارجہ نے افغان صدرکی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کےلیےپرعزم ہیں، افغانستان میں دھماکوں اورحملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

افغان صدراشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان میں سیکورٹی انتظامات کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردوں کی تربیت کا مرکز قراردیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی کے بیان پردفترِخارجہ حرکت میں آیا اور ان کے بیان کا فوری جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ’’پاکستان افغان نمائندوں پر مشتمل مفاہمتی عمل کیلئے پرعزم ہے‘‘۔

پاکستان کیلئے ڈاکٹر اشرف غنی کے جملوں سے بھارتی حکومت کے اثرو رسوغ کا اظہار ہوا۔ افغان صدر نے الزام عائد کیا کہ ’’پاکستان میں خودکش بمبارتیار کرنے والے کیمپ کام کررہے ہیں اور بم بنانے کی فیکٹریاں بھی متحرک ہیں‘‘۔

دفترخارجہ کا کہنا ہے ’’افغان صدرکی پریس کانفرنس کاجائزہ لےرہےہیں، پاکستان افغانستان میں دھماکوں اورحملوں کی مذمت کرتاہے‘‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کاسب سےبڑاشکارہونےکی وجہ سےافغان حکومت اورعوام کادکھ سمجھتےہیں‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں