The news is by your side.

Advertisement

غذائی ضیاع: اقوام متحدہ نے دنیا سے ہنگامی اپیل کر دی

نیویارک: اقوام متحدہ نے منگل کو دنیا بھر سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ خوراک کے ضیاع کی مقدار کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، غذا کی کمی، بھوک اور غذائیت سے محرومی دنیا کے ہر ملک کو متاثر کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت سے متعلق ادارے ایف اے او نے خوراک کے نقصان اور ضیاع کو بھوک اور غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔

ادارے کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک لگ بھگ 8 ارب لوگوں کے لیے کافی خوراک پیدا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود 80 کروڑ لوگ ابھی تک بھوک کا شکار ہیں، اور 2 ارب انسانوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے صحت کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پیدا کی جانے والی خوراک کا لگ بھگ ایک تہائی یا ایک ارب 30 کروڑ ٹن خوراک کسی کے پیٹ میں جانے کی بجائے آخر کار پرچون مارکیٹ میں پڑے پڑے گل سڑ جاتی ہے، یا صارفین کے کوڑے دانوں میں چلی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس نقصان کا اندازہ سالانہ ایک ٹریلین ڈالر ہے۔

ایف اے او کی ڈپٹی ڈائریکٹر ننسی ابورٹو کا کہنا ہے کہ خوراک کے ضیاع کے نتیجے میں پانی، زمین، توانائی، مزدوری اور سرمائے سمیت وہ تمام وسائل ضائع ہو جاتے ہیں، جو اسے پیدا کرنے میں صرف ہوتے ہیں، اگر خوراک کے ضیاع کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو اقوام متحدہ 2030 تک بھوک کے خاتمے سے متعلق دیرپا ترقی کے اپنے ہدف کو کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ غذائی قلت کے باعث ایک جانب لاکھوں بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو دوسری طرف ہر تین میں سے ایک بالغ شخص موٹاپے کا شکار ہے، وہ کہتی ہیں کہ غذائیت کی کمی کا ایک اور سبب غیر صحت بخش خوراک اور ضروری وٹامنز اور معدنیات کی غذا میں کمی ہے۔

خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے دوران دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 14 فی صد حصہ کھیتوں کھلیانوں سے لے کر اسے فروخت کے مراکز تک پہنچانے کے عمل کے دوران ضائع ہو گیا تھا، ایک رپورٹ کے مطابق دستیاب خوراک کا اندازاً 17 فی صد حصہ ضائع ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں