The news is by your side.

Advertisement

وہ غذائیں جن کے جادوئی فوائد، 6 ماہ میں ذیابیطس سے نجات

طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کے استعمال سے مریضوں کو ذیابیطس ٹائٹ 2 بیماری سے تقریباً 6 ماہ میں نجات مل سکتی ہے۔

جریدے بی ایم جے میں شایع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ذیابیطس ٹائٹ 2 کو شکست دینے کے لیے کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کا استعمال بہت ضروری ہے جن سے ممکنہ طور پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے، لیکن تمام مریضوں پر اس کی ایک جیسی افادیت ممکن نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق غذا میں کاربوہائیڈریٹس یا نشاستہ کی مقدار کو کم رکھنا ذیابیطس ٹائپ 2 کے کچھ مریضوں کو اس لاعلاج بیماری سے نجات میں مدد فراہم کرسکتا ہے، مسلسل 6 ماہ تک ان غذاؤں کے استعمال سے بیماری پر قابو پانے کی شرح بڑھ سکتی ہے، تاہم طویل العیاد بنیادوں پر ان کے استعمال سے فوائد گھٹنے لگتے ہیں۔

ذیابیطس کنٹرول کرنے میں مددگار لونگ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں کاربوہائیڈریٹس کے حوالے سے عدم برداشت پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح کم کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں اس صورت حال پر قابو پانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس تحقیق میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے 13 سو سے زائد مریضوں پر ہونے والے 23 کلینکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا مشاہدہ کیا گیا۔

یہ وہ مریضوں تھے جنہوں نے تقریباً 12 ہفتوں تک غذا میں کاربوہائیڈیٹس کو کم رکھا بعد ازاں ڈاکٹرز نے مذکورہ افراد کی صحت، بلڈ شوگر لیول، جسمانی وزن میں کمی، معیار زندگی اور دیگر اثرات کی جانچ کی جس سے پتا چلا کہ 6 ماہ بعد ذیابیطس ٹاٹپ 2 سے نجات کی شرح دیگر کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

کم کاربوہائیڈیٹس والی غذاؤں میں گریاں، زیتون کا تیل، بغیر چینی کی دودھ سے بنی مصنوعاتا، انڈے، پنیر، چکن اور مچھلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی چند ایسی غذا ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں