The news is by your side.

Advertisement

مختلف ممالک کے سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کا ایل او سی کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ

اسلام آباد: مختلف ممالک کے سفرا، دفاعی اتاشی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے لائن آف کنٹرول کے دورے پر پہنچ گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے وفد کو ایل او سی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک کے سفرا، دفاعی اتاشی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے لائن آف کنٹرول پہنچے، وفد میں 24 ممالک کے سفارتکار، دفاعی اتاشی اور نمائندے شامل ہیں۔

وفد میں آذر بائیجان، بوسنیا، یورپی یونین، سعودی عرب، جنوبی افریقا، ترکی، یونان، آسٹریلیا، ایران، عراق، برطانیہ، پولینڈ، ازبکستان، جرمنی، سوئٹزر لینڈ، فرانس، مصر، لیبیا، یمن اور افغانستان کے سفیر شامل ہیں۔

عالمی ادارہ برائے خوراک کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہیں۔

ایل او سی کے جورا سیکٹر پر سفارتی نمائندوں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے وفد کو بریفنگ دی۔

سفارتی نمائندوں کو ایل او سی پر سیز فائر کی بھارتی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا گیا، اس موقع پر سول آبادی پر بھارت کی جانب سے استعمال شدہ کلسٹر بارود کے ٹکڑے سفارتکاروں کو دکھائے گئے۔

وفد کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کلسٹر ایمونیشن کا استعمال ممنوع ہے تاہم بھارتی فوج بچوں اور معصوم شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کر رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ بھارت توجہ ہٹانے کے لیے اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 سے ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بڑھی ہیں، بھارت نے 30 اور 31 جولائی کو وادی نیلم میں کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا۔ آرٹلری کے ذریعے کلسٹر ایمونیشن پھینکا گیا اور شہریوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیریاں اقلیتوں پر ظلم سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، عالمی ادارے بالخصوص یو این ایچ آر بھارتی مظالم کو بے نقاب کر چکے ہیں، کشمیر کی صورتحال کے باعث پورا خطہ خطرات سے دو چار ہے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نکالا جائے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سال رواں میں بھارت نے 2 ہزار 333 بار ایل او سی کی خلاف ورزیاں کیں۔ اس سال سیز فائر خلاف ورزیوں میں 18 شہری شہید ہوئے جبکہ بھارتی اشتعال انگیزیوں سے مجموعی طور پر 185 شہری شہید ہوئے۔

وفد کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر ایل او سی پر شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے، اس کے برعکس پاک فوج صرف بھارتی فوج کی چوکیوں کونشانہ بناتی ہے اور پیشہ وارانہ فورس ہونے کا مکمل ثبوت دیتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے کبھی غیر ملکی سفیروں کو ایل او سی کے علاقے میں جانے سے نہیں روکا، پاکستان نے یو این مبصر مشن، سفارتکاروں اور اداروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا، پاکستان چاہتا ہے ایل او سی پر کوئی بھی جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لے سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارت میں غیر ملکی سفیروں کے ایل او سی کے دورے پر پابندی عائد ہے، بھارت نے یو این مبصر مشن اور میڈیا پر بھی ایل او سی جانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ بھارت میں ایل او سی پر کوریج سے روکنے کے لیے گرفتاریاں بھی ہوچکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں