امریکا کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا: دفتر خارجہ -
The news is by your side.

Advertisement

امریکا کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکا سے بات ہوئی ہے، امریکا کی جانب سے ان کی رہائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دی۔ بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کا دورہ کیا۔ دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر بات ہوئی، ایرانی وزیر خارجہ سے امریکی پابندیوں سے متعلق بھی بات ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں سیکریٹری فنانس، اسٹیٹ بینک حکام اور سیکریٹری خارجہ موجود ہیں۔ چین کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے پارلیمانی گروپ نے مقبوضہ کشمیر پر رپورٹ جاری کی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے بعد دوسری عالمی رپورٹ جاری ہوئی، رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں لاگو کالے قوانین کی نشاندہی کی ہے۔

 انہوںے کہا کہ رپورٹ میں تحقیقاتی کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی تجویز دی گئی، رپورٹ میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بے نقاب کیا گیا۔

کھلے سمندر میں بھارتی ایٹمی آبدوز کے گشت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی کو پاکستان کی صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہیئے۔ بھارت کی ایٹمی آبدوز کا گشت کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکا سے بات ہوئی ہے، امریکا کی جانب سے ان کی رہائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ’جب فیصلہ نہیں ہوا تو نہیں کہہ سکتے کہ رہائی کب تک ہوگی‘۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا وزیر اعظم کو خط

انہوں نے کہا کہ ایلس ویلز سے وفود کی سطح پر گفتگو میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر بات ہوئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے دورے پر آئی ہوئی امریکی نائب وزیر خاجہ ایلس ویلز کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

حکومت پاکستان نے مطالبہ کیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ گوانتا ناموبے کی جیل میں 5 پاکستانی قید ہیں جن میں سیف اللہ پراچہ، ماجد خان، عبد الربانی، عمار البلوشی اور غلام ربانی شامل ہیں۔ ’دیگر پاکستانی قیدیوں سے متعلق بھی امریکی حکومت سے رابطے میں ہیں‘۔

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی محفوظ جگہ پر پاکستان میں ہی موجود ہیں۔ وہ آزاد شہری ہیں جہاں جانا چاہیں جا سکتی ہیں۔ ’پاکستان میں آزاد شہری کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر مصالحت کے لیے کام کر رہا ہے۔ معاملے پر تفصیلات ابھی شیئر نہیں کی جاسکتیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں