سابق کرکٹر سکندر بخت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں پاکستان کے وائٹ واش ہونے کے بعد محمد رضوان کی کپتانی پر شدید تنقید کی ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں میں لگاتار شکست کے بعد محمد رضوان کی کپتانی تنقید کی زد میں ہے، نجی چینل پر بات کرتے ہوئے سکندر بخت نے کہا کہ محمد رضوان نے پروفیشنلزم کی کمی کی بات کی، میں مانتا ہوں، اگر ہمارے پاس پروفیشنل کرکٹ بورڈ ہوتا تو آپ وہاں نہ ہوتے۔
تیسرے ون ڈے کے بعد اپنے ماہرانہ تجزیے میں سکندر بخت نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کے دوران ناقص کپتانی اور بولنگ میں خراب تبدیلیاں کرنے پر محمد رضوان کو آڑے ہاتھوں لیا۔
سکند بخت نے کہا کہ میں آپ کی کپتانی کی بات کرتا ہوں، اگر ہمارا کرکٹ بورڈ پروفیشنل ہوتا تو آپ وہاں نہ ہوتے، آپ نے بولنگ میں خوفناک تبدیلیاں کیں،۔
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ فہیم اشرف 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے تھے، یہ کوئی سلو بولنگ نہیں تھی، یہ اس کی اصل رفتار تھی، آپ نے کپتانی کرتے ہوئے تیسرے اوور میں سلپ ہٹا دی، کیا یہ پروفیشنلزم تھا، آپ کس طرح کی کپتانی کررہے تھے۔
خیال رہے کہ محمد رضوان کی قیادت میں بارش سے متاثرہ تیسرے اور آخری ون ڈے میں بھی گرین شرٹس کو 43 رنز سے شکست ہوئی، مہمان ٹیم 265 رنز کا تعاقب کرنے میں ناکام رہی۔ بابر اعظم اور رضوان نے 50 اور 37 رنز کی اننگز کھیلی لیکن میچ نہ جتواسکے۔