The news is by your side.

‘اپوزیشن کو پتہ تھا انکی گیم ختم ہوجائیگی اسلیے عمران خان کو ہٹایا گیا’

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو پتہ تھا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت برقرار رہی تو ان کی گیم ختم ہوجائے گی اس لیے عمران خان کو ہٹایا گیا۔

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں مزمل اسلم کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں پانچ ملین نوکریاں فراہم کی گئیں، کامیاب جوان اور صحت کارڈ سب سے بڑے پراجیکٹ تھے، حکومت برقرار رہتی تو عمران خان کا وعدہ پورا ہوجاتا اور اپوزیشن کو پتہ تھا کہ ان کی گیم ختم ہوجائے گی اس لیے عمران خان کو ہٹایا گیا۔

شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے احساس پروگرام بھی پہلی بار متعارف کرایا اور کامیاب رہا، ہم چاہتے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنےنہ جائیں، ن لیگ اگر بہتر صورتحال چھوڑ کر جاتی تو ہم آئی ایم ایف کے پاس کیوں جاتے؟

انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ن لیگ 19.6ریزرو چھوڑ کرگئی تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب ن لیگ حکومت گئی تو اصل میں 6 بلین ڈالرزکے ریزور تھے یہ یہ 6 فیصد گروتھ چھوڑ کرگئے تھےجو کورونا کی وجہ 3 فیصد رہ گئی تھی۔
سابق وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں روپے کی قدر میں کمی اور مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ آیا، اب روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اس سے نئی حکومت کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق سیاسی استحکام سے ہے، اب بھی روپیہ انڈر ویلیوڈ ہے اور روپے کی قدر 172 روپے کےقریب ہے، اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 175 تک ہونا چاہیے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ دیکھا جاتا ہےکہ معیشت کی گروتھ کتنی بڑھ رہی ہے، ایکسچینج ریٹ کو دونوں سائیڈ موو کرنا ہوتا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفسٹ واپس آجائے گا گروتھ گری تو واپس آنا مشکل ہے، ہمارے پاس 2.3بلین چین نے ہمارے پاس ریزرو رکھے تھے، آئی ایم ایف سےایک بلین ڈالر ملنا ہے، اگرنہیں ملتا تو ہمیں کیپٹل مارکیٹ میں جانا تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران بھارت ،امریکا سمیت کئی ممالک کی گروتھ مائنس پرچلی گئی تھی لیکن ہماری معیشت کی گروتھ 5.3 فیصد تھی، بل گیٹ سمیت کئی شخصیات نے ہماری کورونا کیخلاف پالیسیوں کوسراہا۔

شوکت ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات سب مان رہے ہیں کہ ہماری ایکسپورٹ 25 فیصد بڑھی ہے، ایکسپورٹ اس بار32 بلین پر جائیں گی، کوئلےکی قیمت 100ڈالرسے260ڈالرتک بڑھی ہے، لوگوں کی آمدنی بڑھتی ہے تو وہ مہنگائی کو برداشت کرلیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ، انڈسٹری اور زراعت کیلئے ہم جو کرسکتے تھے ہم نے کیا، ہم نے کہا تھا کم سے کم ملازمین کی تنخواہوں میں 10سے20فیصدبڑھائی جائیں، ہم نےکہاتھا کہ گریجویٹ کو ایک سال کا انٹرن شپ دینگے، اس حوالے سے پےاینڈپنشن کمیشن نے15 اپریل کو اپنی رپورٹ دینی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں