نوازشریف کو آج کی حاضری سے استثنیٰ مل گیا -
The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کو آج کی حاضری سے استثنیٰ مل گیا

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کی جانب سے عدالت میں ایک دن کے لیے حاضری کی استثنیٰ دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

تفتیشی افسرمحبوب عالم نے سماعت کے آغاز پرکہا کہ نوازشریف کوشامل تفتیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے تھے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ طلبی کےسمن پہلے ہی عدالت میں پیش کیے جا چکے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سمن ایڈیشنل ڈائریکٹراسٹاف نیب لاہورنے بھیجے تھے، سمن پرجس کے دستخط ہیں اسےعدالت میں بطورگواہ پیش نہیں کیا گیا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ نوٹس سے متعلق تفتیشی افسرکا بیان سنی سنائی باتوں پرمشتمل ہے۔

تفتیشی افسرمحبوب عالم نے کہا کہ نواز شریف شامل تفتیش ہوئے ہی نہیں، وہ جانتے تھے نیب عدالتی احکامات کی روشنی میں تفتیش کررہا ہے۔

احتساب عدالت میں گزشتہ روز خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد تفتیشی افسرمحبوب عالم کے قلمبند بیان پراعتراض لکھوایا تھا۔

عائشہ حامد کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ جے آئی ٹی کے مواد کو قانون شہادت کےمطابق دیکھے گی، جے آئی ٹی کا مواد تفتیشی افسربطورشواہد پیش نہیں کرسکتے۔

نوازشریف کی 3 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

یاد رہے کہ 24 ستمبرکواحتساب عدالت میں سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نوازشریف کی 5 دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف اہلیہ کے انتقال کے باعث دکھ اور کرب میں ہیں، 5روز کے لیےحاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد میاں صاحب کو ایڈجسٹمنٹ میں تھوڑا وقت لگے گا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ٹرائل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، ہم یہاں موجود ہیں، نواز شریف کی جانب سے ابراہیم ہارون نمائندے کے طور پر پیش ہوں گے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کی 3 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں