The news is by your side.

Advertisement

امریکا کا سعودی عرب پر ٹویٹر کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کا الزام

دو ٹویٹر ملازمین سمیت تین افراد کو عدالت نے سزا سنا دی

نیویارک: امریکی عدالت نے سعودی عرب کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ٹویٹر کمپنی میں ملازمت کرنے والے دو افراد سمیت تین لوگوں پر فرد جرم عائد کردی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹویٹر کے ملازمین نے سعودی عرب کے بااثر افراد سے رابطہ کیا اور تنقید کرنے والے صارفین کی جاسوسی کی۔ حکام نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ سعودی حکام نے جاسوسی کے لیے ٹویٹر کے ملازمین کو باقاعدہ ملازمت دی۔

سان فرانسسکو کی ضلعی عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ’’ ملزمان نے شاہی خاندان پر تنقید کرنے والے صارفین کے ای میل ایڈریس اور اُن کی لوکیشن سعودی حکام کو فراہم کی‘‘۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے ملازمین کو ایسے صارفین کا سراغ لگانے کی ذمہ داری سونپی تھی جو شخصیات میڈیا سےوابستہ تھیں اور اُن کے دس لاکھ سے زائد فالوررز تھے۔

مزید پڑھیں: ٹویٹر کا سیاسی اشتہارات پر پابندی کا اعلان

ملازمین نے دورانِ تفتیش ٹویٹر اکاؤنٹس کے نام بھی بتائے مگر سیکیورٹی کی وجہ سے انہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔ امریکی عدالت کے مطابق دو سعودی اور ایک امریکی شہری سعودی حکومت اور شاہی خاندان کی ایما پر تنقید کرنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے مالکان کا پتہ لگاتے تھے۔ امریکی عدالت نے جن تین افراد پر جاسوسی کی فرد جرم عائد کی اُن کی شناخت علی الزبارہ اور احمد ابو عمو (ٹوئٹر ملازم) کے علاوہ امریکی شہری احمد المطیری کے ناموں سے ہوئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں