The news is by your side.

Advertisement

طالبان کیخلاف افغانستان کے سابق نائب صدر سرگرم، قومی مزاحمتی کونسل قائم

افغانستان کے سابق نائب صدر اور جنگجو کمانڈر عبدالرشید دوستم نے ہم خیال جنگجو رہنماؤں کے ساتھ طالبان کیخلاف قومی مزاحمتی کونسل کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں افغانستان کے سابق نائب صدر اور جنگجو کمانڈر عبدالرشید دوستم کی میزبانی میں ایک اجلاس ہوا جس میں جلاوطن 40 افغان رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں طالبان کے خلاف قومی مزاحمتی کونسل بنانے کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق انقرہ میں مقیم طالبان مخالف کمانڈر اور سابق افغانی نائب صدر عبدالرشید دوستم نے اپنے حلیفوں اور دیگر ہم خیال افغان جنگجو رہنماؤں کو ایک دعوت پر مدعو کیا جس میں طالبان کے خلاف مشترکہ طور پر ایک محاذ بنانے پر زور دیا گیا۔

شرکا نے اس تجویز پر بحث ومباحثے کے بعد ایک مزاحمتی کونسل تشکیل دی جس کے بانی ارکان میں صوبہ بلخ کے گورنر عطا محمد نور، ہزارہ کمیونٹی کے رہنما محمد محقق اور قومی مزاحمتی فرنٹ کے احمد ولی مسعود شامل ہے جب کہ طالبان کے مخالف جنگجو عبدالرب رسول نے بھی کونسل کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

کونسل کے ارکان نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ جنگ اور تباہی کو ختم کرکے موجودہ مسائل کے حل کی تلاش کیلیے افغانستان کے تمام فریقین اور طبقات کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں کیونکہ کوئی بھی ایک گروپ طاقت کے استعمال اور دباؤ کے ساتھ مستحکم حکومت قائم نہیں کرسکتا۔

کونسل کے قیام کے بعد عبدالرشید دوستم کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کونسل کا مقصد افغانستان کے مسائل کو مذاکرات سے حل کرنا ہے، طالبان نے افغانستان کے تمام فریقین کاور طبقات کو حکومت میں شامل نہیں کیا تو ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ہی طالبان نے جلاوطن افغان سیاستدانوں اور رہنماؤں سے رابطے کیلیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ شہریوں، قبائلی اور اسلامی رہنماؤں پر مشتمل ایسی اسمبلی تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جس میں قومی اتحاد پر بحث کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 15 اگست کو امریکا کے افغانستان چھوڑنے کے بعد طالبان نے ملک پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد ازاں اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کردیا تھا۔

تاہم اپنے قیام کے وقت سے ہی طالبان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک وسیع البنیاد حکومت بنانے کے مطالبے کا سامنا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں