ارجنٹینا: تین کروڑ سال قدیم دیو قامت ڈائنا سارز کی باقیات دریافت -
The news is by your side.

Advertisement

ارجنٹینا: تین کروڑ سال قدیم دیو قامت ڈائنا سارز کی باقیات دریافت

ارجنٹینا: ماہرینِ آثار قدیمہ نے ارجنٹینا کے شمال مغربی حصے میں نئی قسم کے دیو قامت ڈائنا سارز کی باقیات دریافت کرلی ہیں جسے انھوں نے انجینٹیا پرائما کا نام دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ارجنٹینا میں ماہرینِ آثار قدیمہ کو چار ڈھانچے ملے ہیں، جن میں سے تین ڈھانچے ایک ہی قسم کے ڈائنا سارز سے تعلق رکھتے ہیں۔

معدوم حیوانات کے ماہرین نے اس دریافت سے ڈائنا سارز کے متعلق نئی معلومات حاصل کرلی ہیں، ان کے مطابق نئی دریافت نے دیو قامت جانوروں کے بڑھنے سے متعلق نئے شواہد مہیا کیے۔

سائنسی جریدے نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن کے مطابق ارجنٹینا میں پہلی بار کسی دیو قامت ڈائنا سار کی باقیات دریافت ہوئی ہیں، اسے انجینٹیا پرائما یعنی ’پہلا دیو قامت‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ماہر معدوم حیوانات ڈاکٹر سیسیلا اپالڈیٹی کے مطابق یہ ڈائنا سارز تین کروڑ سال قدیم ہیں، یہ اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب لمبی گردن والے سبزی خور ڈیپلو ڈوکس اور براچیو سارز ہوا کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے ڈائنا سارز کا وزن 10 ٹن کے لگ بھگ رہا ہوگا، یہ زیادہ بڑے نہیں تھے اور ایک گروہ کی صورت میں رہا کرتے تھے، ان کی گردن دس میٹر تک لمبی تھی۔

کیا ڈائنو سار اب بھی زمین پر موجود ہیں؟


ابتدا میں اس قسم کے ڈائنا سارز کے پیر چھپکلی کی طرح تھے، رفتہ رفتہ چار ٹانگوں والے جانور میں تبدیل ہوگئے اور کرۂ ارض کے سب سے بڑے جانور بن گئے۔

ڈاکٹر سیسیلا اپالڈیٹی کے مطابق اس کے تیزی سے بڑے ہونے کی ایک اہم وجہ پرندوں جیسی سانس کی تھیلیاں تھیں جو بڑے جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری تھیں، ہڈیوں کے مشاہدے سے بھی معلوم ہوا کہ ان کی افزائش بڑی تیزی کے ساتھ ہوئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں