The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کی 70سالہ تاریخ میں پہلی پاکستانی خاتون قونصلرتعینات

جدہ :سعودی عرب کی ستر سالہ تاریخ میں فوزیہ فیاض احمد پاکستانی قونصل خانے کی پہلی خاتون قونصلر بن گئیں۔

تفصیلات کے مطابق فوزیہ فیاض احمد کو سعودی عرب کی ستر سالہ تاریخ میں جدہ میں پاکستانی قونصل خانے میں قونصلر تعینات کردیا گیا۔

پاکستانی سفاترتخانے کی پہلی خاتون قونصلر فوزیہ فیاض کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ترقی پسند ملک ہے اورخواتین تمام شعبوں میں بہت اسلوبی سے کام کررہی ہیں، پاکستانی معاشرہ خواتین کے کردار کو تسلیم کرتا ہے اور پاکستانی وزارت خارجہ نے خواتین کے لئے ہر سطح پر ترقی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 70 سالوں کے دوران سعودی عرب میں کوئی خاتون سفارتکار کی تعینات نہیں کی گئی، مملکت سعودی عرب میں سفارتی خدمات سرانجام دینے والی وہ پہلی خاتون سفیر ہوں، قونصل خانے میں ان کی موجودگی کی وجہ سے خواتین کی آمدمیں اضافہ ہوا ہے۔

فوزیہ نے مزید بتایا کہ میں قونصلر کے سیکشن کی انچارج ہوں، جو دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کو پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، تجدید اور توسیع، سفری دستاویزات کی سہولیات فراہم کرتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اس خطے کے لوگ ، لڑکیوں کی تعلیم خاص طور پر اعلی تعلیم پر بہت زور نہیں دیتے تھے لیکن مجھے فخر ہے اپنے والد مرحوم فیاض احمد پر کیونکہ یہ انہی کی دور اندیشی ، حوصلہ افزائی اور جرات تھی کہ بیٹیوں کو بھی اعلی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ فوزیہ فیاض ایک بہت روایتی پس منظر ، پاکستان کے جنوبی پنجاب و سرائیکی حصے سے تعلق رکھتی ہیں، انھوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے انگریزی ادب میں ماسٹر ڈگری کی حاصل کی اور سی ایس ایس امتحان پاس کیا پھر پاکستان کے غیر ملکی سروس میں شرکت کی۔

فوزیہ فیاض کی  پہلی تقرری واشنگٹن ڈی سی میں تھی اور ایسے بڑے شہر میں کام کرنا بہت عمدہ اور پیشہ وارانہ تجربہ تھاپھر چند برسوں کے بعد انہوں نے بھارت میں نئی دہلی میں خدمات سر انجام دیں۔

انھوں نے بتایا کہ دہلی بھارت میں مجھے چیلنج والے ماحول میں کام کرنے کا موقع ملا اور میں نے وہاں بہت کچھ سیکھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں