The news is by your side.

Advertisement

فرانس نے احتجاجاً امریکا اور آسٹریلیا سے سفیر واپس بلا لیے

روایتی آبدوز ڈیل تنازع پر فرانس نے امریکا اور آسٹریلیا سے سفیر واپس بلا لیے، فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے معاہدے میں دھوکا دہی کی گئی۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز فرانس کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں فرانسیسی سفیروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ 15 ستمبر کو امریکا ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے مابین انڈوپیسفک معاہدے کے بعد کیا گیا ہے۔

جمعے کی شام کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو ‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کا ڈیل توڑنا ناقابل قبول رویہ ہے، سفیروں کو صدر ایمانوئل میخکواں کی درخواست پر واپس بلایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اتحادیوں اور شراکت داروں کے درمیان ناقابل قبول رویے کی تشکیل کرتا ہے جس کے نتائج براہ راست ہمارے اتحاد ، ہماری شراکت داری اور یورپ کے لیے انڈو پیسفک کی اہمیت کے نقطہ نظر کو متاثر کرتے ہیں۔

فرانس کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا اب امریکا سے ایٹمی آبدوز خرید رہا ہے، ایٹمی آبدوزوں کی ڈیل کی مالیت36 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق انڈو پیسفک معاہدے کی وجہ سے 2016 میں فرانس اور آسٹریلیاکے درمیان آبدوزیں فراہم کرنےکا 36.5 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم ہوگیا ہے۔ 2016میں ہونے والے معاہدے کے تحت فرانس نے آسٹریلیا کو آبدوزیں فراہم کرنا تھیں۔

دوسری جانب امریکا نے جمعے کے روز فرانس کا اپنے سفیر کو واپس بلانے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس کا اپنے سفیر کو واپس بلانا افسوس نا ک عمل ہے، تاہم امریکا اس سفارتی تنازع کو حل کرنے کے لیے کام کرے گا۔

یاد رہے کہ امریکا ،برطانیہ اور آسٹریلیا نے 15 ستمبر کو ایک خصوصی سکیورٹی معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت امریکا اور برطانیہ ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے میں آسٹریلیا کو مدد فراہم کریں گے۔

تینوں ممالک  کے ایشیا پیسیفِک میں تاریخی معاہدے کا مقصد اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے، اس معاہدے کو ‘آکوس’ کا نام دیا گیا ہے جو دراصل آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے ناموں کے حروف تہجی (اے، یو کے، یو ایس) پر مشتمل ہے۔

دوسری جانب چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایشیا پیسیفک تجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں