The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی نئی اور شدید قسم ایک اور ملک پہنچ گئی

پیرس: برطانیہ، جنوبی افریقا اور نائیجیریا کے بعد کرونا کی نئی قسم یورپ بھی پہنچ گئی۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز فرانس میں کرونا کی نئی قسم کا کیس سامنے آیا، جس کے بعد متاثرہ شخص کو اسپتال کے علیحدہ کمرے میں داخل کرلیا گیا۔

اس سے قبل کرونا کی نئی قسم کے کیسز برطانیہ، جنوبی افریقا اور نائیجیریا میں سامنے آچکے ہیں جس کے باعث تمام ممالک نے مذکورہ ممالک سے پروازوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی ہے۔

فرانسیسی ماہرین کا کہنا ہے لندن سے آنے والے شخص میں وائرس کی نئی قسم پائی گئی۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے تشویشناک انکشاف

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت اور ڈاکٹرز بہت زیادہ پریشان ہیں اور انہوں نے عوام سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔

کرونا کی عالمی صورت حال

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر کے آخری دنوں میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا وائرس دنیا کے کے تقریباً ممالک میں پہنچ چکا ہے، کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کرگئی جبکہ 17 لاکھ مریض مہلک وبا سے انتقال بھی کرگئے۔

کرونا نے سب سے زیادہ امریکا کو متاثر کیا جہاں صورت حال بدستور بے قابو ہے، امریکا میں متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 92 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی سطح پر امریکا کے بعد کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دوسرا ملک بھارت ہے جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 22 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

بھارت میں مریضوں کی کُل تعداد ایک کروڑ 17 لاکھ 27 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ مرنے والوں کی تعداد اضافے کے بعد 1 لاکھ 47 ہزار 415 تک پہنچ گئی۔

کرونا کی نئی قسم کیا ہے؟

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی شکل یاقسم کو ‘وی یو آئی 202012/01’ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں 70 فیصد تیزی سے پھیلتا ہے۔ کرونا کی نئی شکل یا قسم کا پہلا کیس تیرہ دسمبر کو برطانیہ کے جنوبی علاقے کاؤنٹی کینٹ میں رپورٹ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس کی نئی قسم سے متعلق عالمی ادارہ صحت کا اہم بیان

بعد ازاں جنوبی افریقہ میں بھی کرونا وائرس کی  نئی قسم کی تشخیص ہوئی جسے عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے وی یو آئی سے مختلف قرار دیا۔

نئی قسم زیادہ مہلک ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے مقابلے میں وی یو آئی میں 23 نئی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جن میں متاثرہ شخص کا پروٹین بڑھنا اور ایک سے دوسرے انسان میں تیزی و آسانی کے ساتھ منتقل ہونا شامل ہے۔

برطانوی وزیر صحت میٹ ہان کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، مشرقی برطانیہ اور دارالحکومت میں نئے کیسز تیزی سے سامنے آئے ہیں، یہ قسم ویکسین کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: کرونا کی نئی قسم برطانیہ سے پاکستان پہنچ گئی؟ ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتا دیا

برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وٹی کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کی وجہ سے زیادہ اموات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس حوالے سے ماہرین نے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں اور اب ہم اس پر تحقیق کررہے ہیں تاکہ اصل صورت حال کو جان سکیں‘۔

نئی قسم کے خلاف کرونا ویکسین کاررآمد ہوگی؟

برطانیہ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جس میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر امید ہے کہ کرونا کی نئی قسم ویکسین کی افادیت کو کم نہیں کرے گی‘۔

بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے لیے نئی قسم خطرناک ہے

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ جس طرح کرونا بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا بالکل اُسی طرح نئی قسم بھی انہیں متاثر کرسکتی ہے کیونکہ وی یو آئی کے جو نئے کیسز سامنے آئے اُن میں بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں