فرانس میں پرتشدد مظاہرے بے قابو، صدر نے مظاہرین سے مذاکرات کا حکم دے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

فرانس میں پرتشدد مظاہرے بے قابو، صدر نے مظاہرین سے مذاکرات کا حکم دے دیا

پیرس : فرانس میں پیڑول کی قیمتوں پر ہونے والا احتجاج پیرس بھی پہنچ گیا، مظاہرین نے توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کرکے درجنوں عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی، صدرایمانویل میکرون نے وزیراعظم کو مظاہرین سے مذاکرات کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں فیول ٹیکس پر شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کرگیا بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث یہ احتجاج اب عوامی غصے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

مظاہرین نے توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا۔ درجنوں عمارت اور گاڑیوں کو آگ لگادی، شانزے لیزے پر پولیس اور مظاہرین پھر آمنے سامنے آگئے، پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے آنسوگیس شیل اور پانی کی توپ چلادی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چارسو افراد گرفتار کرلیے گئے، گزشتہ کئی دنوں سے جاری جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں اب تک چار افراد ہلاک اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ فرانس میں گذشتہ بارہ ماہ میں ڈیزل کی قیمت تقریباًتئیس فیصد بڑھ گئی ہے جو اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے جس کے باعث حکومت عوام کے غیض وغضب کا شکار ہے۔

دوسری جانب پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے پیرس میدان جنگ میں تبدیل ہونے کے بعد حکام تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں، فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے وزیراعظم کو سیاسی رہنماؤں اور مظاہرین سے مذاکرات کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ1968کے بعد دارالحکومت میں ہونے والے ان بدترین واقعات میں مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش اور دکانوں میں لوٹ مار کی وارداتیں کیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں