فرانس کے صدر ایموئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیرف کو ظالمانہ اقدام قرار دے دیا۔
اپنے ردعمل میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ٹیرف ظالمانہ اور بےبنیاد ہیں ٹرمپ کے فیصلےخود امریکی معیشت کے لیے قابل برداشت نہیں ہیں۔
میکرون نے کہا کہ یورپی یونین کی تجارتی مارکیٹ امریکا سے بڑی ہے ٹرمپ کے محصولات کےجواب میں یورپ کو متحد ہونا پڑے گا۔
امریکی صدر کے ٹیرف کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے تجارتی جنگ قرار دے دیا ہے، جس کے باعث نئی تجارتی چپقلش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، چین نے اسے بلیک میلنگ قرار دیا اور جوابی اقدام کا عزم ظاہر کیا ہے، چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے اس سے بین الاقوامی تجارت، اقتصادی ترقی اور ترسیلات کو خطرہ ہوگا۔
یورپ نے امریکی ٹیرف کو تجارتی جنگ قرار دیا، یورپیئن کمیشن کی صدر نے امریکی ٹیرف کو بین الاقوامی معیشت پر بڑا حملہ قرار دیا، یورپی یونین نے جوابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مزید جوابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اطالوی اور آئرش کے وزرائےاعظم نے کہا امریکی ٹیرف غلط ہے، اس کا مناسب جواب دینا چاہیے جبکہ ہسپانوی وزیراعظم مائیکل مارٹن کا کہنا تھا کہ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔
یاد رہے صد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف لگادیا ہے، پاکستان پر انتیس فیصد، بھارت پر چھبیس فیصد،برطانیہ پر دس، یورپی یونین پر بیس، چین پر چونتیس، جاپان پر چوبیس، اسرائیل پرسترہ، سعودی عرب، قطر اورافغانستان پر دس دس فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے جو کاریں درآمد ہونگی ان کاروں پر اب 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات غیرضروری اور بلاجواز ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ صدرٹرمپ کےاقدامات سے بین الاقوامی تجارت پرمنفی اثرات پڑیں گے جبکہ جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کے باوجود ٹوکیوپرٹیرف پر حیرانی ہوئی۔