The news is by your side.

Advertisement

اردو شاعر الگزینڈر ہیدر لی جو مرزا غالب کا شاگرد تھا

الگزینڈر ہیدر لی ایک فرانسیسی خاندان کے رکن تھے۔ ولادت غالباً ہندوستان ہی میں ہوئی تھی۔ سالِ ولادت تقریباً 1829ء۔

اٹھارہ سال کی عمر سے اردو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ مشورۂ سخن کے لیے کلام نواب زین العابدین خاں عارف (شاگردِ عزیز مرزا غالب) اور خود غالب کی خدمت میں بھیجنا شروع کیا۔ ان حضرات کا فیضِ توجہ کہیے یا خود آزاد کی طبّاعی کہ کچھ ہی روز میں اچھی خاصی مشق حاصل کر لی، اور کلام میں وہ پختگی آ گئی جو ایک غیر قوم کے فرد کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ عمر نے وفا نہ کی۔

کُل 32 سال کی عمر میں 7 جولائی 1861ء کو انتقال کیا۔ تاہم اس نوعمری میں کلام کا مجموعہ جس قدر ہو گیا تھا، وہ اوسط ضخامت کے دیوان کے لیے کافی تھا۔ چنانچہ وفات کے دو ہی برس بعد ان کے برادر کلاں طامس ہیدر لی نے اس دیوان کو شائع کر دیا۔

تخلص آزادؔ کرتے تھے۔ اس لیے دیوان ہی دیوانِ آزادؔ کے نام سے موسوم ہے۔

ابتدا میں دو دیباچے ہیں۔ پہلا دیباچہ فارسی میں منشی شوکت علی ساکن شاہ پور ضلع فتح پور کا ہے۔ اب یہ صاحب خود گم نام اور محتاجِ تعارف ہیں۔ اپنے زمانہ میں معلوم ہوتا ہے کہ مشہور منشیوں میں شمار ہوتے تھے۔ طرزِ بیان تقریظ نگاروں کے عام دستور کے مطابق شاعرانہ اور بعض بیانات مبالغہ آمیز۔

آگے چل کر اسی دیباچے میں یہ ذکر ہے کہ ہیدر لی کو طب میں بھی یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ مریض عموماً ان کے علاج سے شفا یاب ہوتے تھے، مزاج میں سخاوت و فیاضی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ دوائیں بلا قیمت تقسیم کرتے اور دوسرے طریقوں سے بھی غربا کی دست گیری کرتے رہتے۔ خود عسرت سے بسر کرتے لیکن دوسروں کی حاجت روائی کے لیے قرض لینے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ ریاست الور میں توپ خانہ کے کپتان مقرر ہو کر گئے۔ اسی سال وفات پائی۔

(جیّد عالمِ دین، انشا پرداز، بے مثل ادیب اور صحافی عبد الماجد دریا بادی کے مضمون “غالب کا ایک فرنگی شاگرد آزاد فرانسیسی” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں