The news is by your side.

Advertisement

فرانس: پولیس کا مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن، تشدد سے ایک شخص کی انگلیاں کٹ گئیں

پیرس : فرانس کے مختلف شہروں میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے تیرویں ہفتے بھی جاری رہے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک شخص کی انگلیاں ضائع ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے خلاف ’یلو ویسٹ تحریک‘ کے تحت جاری احتجاج مسلسل تیرویں ہفتے بھی جاری رہا۔

فرانسیسی پولیس نے معاشی پالیسی کی تبدیلی کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس کے بعد فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پولیس کی جانب سے داغا گیا ربر پیلٹ گرنیڈ احتجاج میں شریک ایک شخص کے ہاتھ میں پھٹ گیا، دھماکے کے نیتجے میں مذکورہ شخص کی تمام انگلیاں کٹ گئیں۔

فرانسیسی حکومت کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں میں 51 ہزار سے زائد افراد شریک تھے جس میں 4 ہزار مظاہرین نے صرف دارالحکومت پیرس میں ایمینئول میکرون کی غلط پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والی افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، اس سے قبل ہونے والے مظاہرے میں 58 ہزار 600 افراد نے شرکت تھی جبکہ پیرس میں ساڑھے 10 ہزار افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی، مظاہرین نے دکانوں اور گاڑیوں کے شیشے توڑے اور موٹر سائیکل اور پولیس موبائل کو نذر آتش کیا۔ جس کے بعد پولیس نے چھتیس افراد کو حراست میں لے لیا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد کی جانب سے فرانسیسی پارلیمنٹ کے سربراہ کے گھر کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ پارلیمنٹ ہیڈ کے گھر میں آتشزدگی کے واقعے کا احتجاج سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں : عوامی احتجاج ’عفریت‘ بن گیا ہے، فرانسیسی حکومت

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں فرانس میں یلو ویسٹ احتجاجی تحریک پیٹرول کے نرخوں میں اضافے پر شروع ہوئی تھی تاہم اب اس نے حکومت کے سامنے ٹیکس نظام کی تبدیلی، ریٹائرمنٹ کی عمر میں تخفیف ، تعلیمی نظام میں تبدیلی سمیت 40 مطالبات رکھ دیے ہیں۔

یاد رہے کہ فرانسیسی حکومت خود اعتراف کیا تھا کہ پیٹرول نرخوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی ’یلو ویسٹ‘ تحریک آسانی سے دھیمی ہونے والی نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں