The news is by your side.

Advertisement

جانئے، وہ پھل جو کینسر کے خلاف دوا جیسا کام کرتے ہیں

تحقیق سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں عام پائے جانے والی نارنجیوں، انگور اور گاجروں میں کینسر سے لڑنے یا روکنے والے غیر معمولی اجزا پائے جاتے ہیں۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ اجزا ان دواؤں کے مرکبات سے بہت حد تک مماثلت رکھتے ہیں جو آج کینسر کے خلاف استعمال ہورہی ہیں، عام الفاظ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پھل کینسر کے خلاف دوا کی طرح کام کرتے ہیں۔

امپیریل کالج لندن کے شعبہ کینسر سے وابستہ ڈاکٹر کرل ویسلکوف کے مطابق ایک وقت آئے گا جب ہم ایسی تحقیق کی بنا پر ہر شخص کے لیے ’ذاتی فوڈ پاسپورڈ‘ بنائیں گے تاکہ سرطان کا خطرہ کم کیا جاسکے۔

اگرچہ دنیا بھر میں ہرسال کینسر کا شکار ہورہے ہیں لیکن امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق اس سال مزید 15 لاکھ افراد اس کے شکنجے میں آئیں گے، تاہم طرزِ زندگی بدل کر30 سے 40 فیصد تک کینسر کے حملوں کو روکا جاسکتا ہے۔ماہرین سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ کینسر ربا مرکبات کی اکثریت ان میں موجود ہے۔

امپیریل کالج کے ماہرین نے مزید تحقیق کے لیے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے 7962 مرکبات کا ایک ڈیٹا بیس بنایا اور اسے ایک جدید کمپیوٹر الگورتھم میں داخل کیا۔ اس سے قبل الگورتھم کینسر کے خلاف استعمال ہونے والے 199 دواؤں کی شناخت کی صلاحیت رکھتا تھا۔

بعد ازاں الگورتھم نے خود بتایا کہ پہلے داخل کردہ آٹھ ہزار کے قریب مرکبات میں 110 ایسے ہیں جو کینسر سےلڑسکتے ہیں، اسی بنا پر ماہرین نے نارنجیوں، انگور اور گاجر کو اس فہرست میں سب سے آگے قراردیا، لیکن کینسر روکنے والےدوسرے مرکبات میں گوبھی، سبزچائے، دھنیا اور اجوائن سرِفہرست ہیں۔

نارنجی میں ایک ‘فلے وینوئڈ ڈائڈیمن’ بکثرت پایا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا سمیت پاکستان کی نارنجیوں میں یہ نعمت بکثرت پائی جاتی ہے، جبکہ دھنیے اور اجوائن میں بھی یہ موجود ہوتا ہے، اس کے علاوہ ان میں ٹرپینوئڈز، ٹیننس اور کیٹے چن جیسے اجزا پائے جاتے ہیں جو مخلتف اقسام کے کینسر کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ سرطانی پھوڑوں کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں