The news is by your side.

1992 میں بھاگے ہوئے قیدی نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا

کینبرا : تیس سال قبل جیل سے فرار ہونے والے قیدی نے رواں ہفتے خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کردیا۔

اکثر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ قیدی جیل کی آہنی سلاخوں کو کاٹ کر فرار ہوگیا یا سرنگ بناکر جیل سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا، ایسا ہی ایک واقعہ آسٹریلیا کی ایک جیل میں 31 جولائی 1992 کو پیش آیا تھا جب ایک قیدی آری اور کٹر کی مدد سے سلاخیں کاٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔

ڈارکو نامی قیدی 35 برس کی عمر میں جیل سے فرار ہوا اور اب تیس سال بعد 65 برس کی عمر میں انہوں نے خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈارکو کے فرار کے بعد انہیں تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ڈارکو ڈیسک کو پولیس 28 ستمبر کو عدالت میں پیش کرے گی جن پر سابقہ جرائم کے ساتھ جیل توڑنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قیدی نے فرار کے بعد بہتر زندگی اور جرائم سے پاک زندگی گزاری جس کے باعث لوگ اب اس کے رویے سے اس کے ہمدرد بن گئے ہیں اور اس کی مدد کے لیے ایک کراؤڈ فنڈنگ پیج بھی بنایا گیا ہے اور اب تک چھ ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوچکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں