The news is by your side.

Advertisement

جی سیون ممالک کا روسی مطالبہ ماننے سے انکار

دنیا کے امیر ترین ممالک کی تنظیم جی سیون نے درآمدی قدرتی گیس کی قیمت روبل میں ادا کرنے کا روسی مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جی سیون ممالک کا ہنگامی اجلاس جرمنی کی درخواست پر منعقد ہوا جس میں ماسکو کی جانب سے امریکا اور یورپی ممالک سمیت مخالف ملکوں سے گیس کی قیمت روبل میں وصول کرنے کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اس مطالبے پر غور کیا گیا جو روسی صدر نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔

اجلاس کے حوالے سے جاپان کی وزارت معیشت کے عہدیداروں نے بتایا ہے ک جی سیون اجلاس میں شریک وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ روسی صدر کا مذکورہ مطالبہ موجودہ معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ بیشتر ادائیگیاں ڈالر یا یورو میں کی جارہی ہیں۔

اجلاس میں شریک وزرا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کی کمپنیوں سے روسی مطالبہ نہ مانے پر زور ڈالیں گے۔

جاپان کے وزیر معیشت ہاگی اداکواچی نے اجلاس کے بعد کہا کہ جی سیون ممالک کو متحد ہوکر دنیا کو غیر متزلزل پیغام دینا ہوگا ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جاپان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے متبادل ذرائع کی جانب منتقلی اور قدرتی گیس پر سرمایہ کاری کی پالیسی میں ردوبدل کے ذریعے روسی تیل پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرے گا۔

اسی حوالے سے وزارت معیشت نے مزید کہا ہے کہ روس کے مشرق بعید میں واقع قدرتی گیس کے منصوبے ’سخالین 2‘ سے متعلق ادائیگی روبل میں کرنے کا ماسکو کی جانب سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہے اور جاپان کی بڑی تجارتی کمپنیاں اس منصوبے میں شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں