The news is by your side.

Advertisement

لاہور : سڑک پر کھڑی خاتون سے چھ ملزمان کی اجتماعی زیادتی، وزیراعلیٰ کا نوٹس

لاہور : سفاک ملزمان سڑک پرکھڑی خاتون سے اجتماعی زیادتی کرکے فرار ہوگئے، پولیس نے واقعہ کے پانچ دن بعد مقدمہ درج کیا، کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں اکیلی خاتون کے ساتھ عصمت دری کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، لاہور کے علاقے جڑانوالا روڈ پر تھانہ مانگٹا نوالا کے قریب لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔

مذکورہ مقام پر بس خراب ہونے پر سڑک پر کھڑی خاتون سے6 کار سوار افراد نے اجتماعی زیادتی کی اور فرار ہوگئے۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کار سوار افراد نے خاتون کو لفٹ دینے کے بہانے اپنے ساتھ بٹھالیا، ملزمان نے خاتون کو زبردستی نشہ پلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

مانگٹانوالا پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے واضح رہے کہ یہ واقعہ 24ستمبر کو پیش آیا تھا جبکہ پولیس نے5دن بعد مقدمہ درج کیا۔

تھانہ مانگٹانوالہ میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق 24ستمبر کو مدعی مسرت بی بی کی ہمشیرہ ذکیہ بی بی سڑک کنارے کھڑی تھی کہ ایک کار پر سوار دو افراد نے کچھ مسافروں کو کھنڈا موڑ تک لفٹ دینے کے بہانے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔

متاثرہ لڑکی بھی ساتھ بیٹھ گئی، کار سوار افراد نے باقی مسافروں کو کچھ فاصلے پراتار دیا جبکہ مدعی مقدمہ کی ہمشیرہ کو ایک ڈیرے پر لے گئے جہاں پہلے سے چار افراد بھی موجود تھے۔

مدعی کے مطابق چھ افراد نے نشہ آور چیز پلا کر ذکیہ بی بی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور برہنہ حالت
میں فصلوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تھانہ مانگٹانوالا کی حدود میں لڑکی سے زیادتی کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، انہوں   نے آر پی او شیخوپورہ سے واقعے کی تفصیلی  رپورٹ طلب کرلی ہے۔

عثمان بزدار نے پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہچایا جائے
اور ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں۔

دوسری جانب سے آئی جی پنجاب انعام غنی نے بھی سڑک پر کھڑی لڑکی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او شیخوپورہ سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

اس حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ24تاریخ کو ،مذکورہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا، 27تاریخ کو خاتون نے زیادتی کیخلاف درخواست دی۔

فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ متاثرہ خاتون واقعے کے بعد مانگٹاوالا سے واپس لاہور چلی گئی تھی، خاتون کو لاہور میں تلاش کرکے میڈیکل کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متاثرہ خاتون کے کچھ رشتے داروں کو حراست میں لیا گیا ہے، پہلی بار لنک روڈ جیسے زیادتی کیس کی72گھنٹے میں درست تفتیش ہوئی، متاثرہ خاتون سے زیادتی کے واقعے کی مزید تفتیش ہونا باقی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں