The news is by your side.

Advertisement

گارڈن فائرنگ: ٹک ٹاکر مسکان کے قتل سے چند لمحے پہلے کیا ہوا؟

کراچی: گزشتہ روز گارڈن میں قتل کی گئی خاتون ٹک ٹاکر اور ساتھیوں کی ہلاکت کے واقعے کے سلسلے میں اے آر وائی نیوز نے مزید اہم تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث شخص چند لمحے پہلے تک مقتولہ مسکان سے رابطے میں تھا، اور فائرنگ کے مقام پر حملہ آور مسکان اور ساتھیوں کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔

پولیس نے بتایا کہ مقتولہ مسکان اور تین دوست انکل سریا اسپتال پہنچے تو قاتل اور مقتولین کی گفتگو ہوئی، پانچ منٹ گفتگو کرنے کے بعد مسکان گاڑی میں بیٹھی تو ملزم نے فائرنگ کر دی۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ملزم نے گاڑی کی پچھلی جانب سے فائرنگ کی تھی، جس پر دیگر دوست اتر کر بھاگے اور گاڑی پر فائر کی جانے والی گولی مقتولہ مسکان کو لگی، فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہوا، جس کی آخری لوکیشن مظفر آباد کالونی سامنے آئی، ملزم کی تلاش میں رات بھر پولیس کی چھاپا مار کارروائیاں جاری رہیں۔

معلوم ہوا کہ مقتولہ مسکان نے عامر کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی، جس پر ملزم اور مقتولہ مسکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، مقتولہ مسکان کا اصل نام رقیہ عرف مسکان ہے، مقتولہ نےگزشتہ سال 2 ملزمان کے خلاف زیادتی اور تشدد کا مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔

گارڈن فائرنگ: اہم پیش رفت، ٹک ٹاکرز کا کرمنل ریکارڈ منظر عام پر

مقتولہ رقیہ عرف مسکان کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق مبینہ ملزم رحمان اور قیصر نے مقتولہ کے گھر میں گھس کر زیادتی کی کوشش کی تھی، مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ مسلح ملزم رحمان خان علاقے کا بدمعاش ہے، زیادتی کے دوران مزاحمت کی گئی تو گھر میں موجود سہیلی سحر پر ملزمان نے تشدد کیا۔

مقتولہ مسکان نے ایف آئی آر میں کہا کہ ملزم نے زبردستی دوستی کرنے پر زور دیا، اور 6 سالہ بیٹے کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ دریں اثنا، پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان سے چاروں افراد کے قتل سے متعلق تفتیش کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں