تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

غزہ میں اسرائیلی بمباری میں 24 ہزار بچے یتیم، دو یتیم بچوں کی ویڈیو نے آنکھیں اشکبار کر دیں

غزہ: رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں 24 ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں 24 ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں، غزہ کے قبرستان میں یتیم بچوں کا رش لگا رہتا ہے۔

ماں باپ کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے یہ کوئی غزہ کے بچوں سے پوچھے، غزہ کے قبرستان میں یتیم بچوں کا اتنا رش لگا رہتا ہے کہ بچوں کو مرحلہ وار فاتحہ پڑھنے قبرستان آنا پڑتا ہے، جہاں وہ اپنے والدین کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں۔

الجزیرہ نے ایک اسپتال میں غزہ کے دو یتیم بچوں سے ہونے والی گفتگو کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جسے دیکھ کر ہر درد مند آدمی کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔

انس اور آثر کا گھر وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں رفیوجی کیمپ میں تھا، لیکن اب وہ دنیا میں تنہا رہ چکے ہیں، اور اپنے 6 سالہ بھائی کی حفاظت اب انس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، اس کا معصوم بھائی لاعلم ہے کہ اس کی کائنات لٹ چکی ہے، اور اب اس بھری دنیا میں اس کا صرف ایک بھائی ہی رہ چکا ہے۔

یو این ایجنسی کے ملازمین نے حماس حملے میں حصہ لیا، 9 ممالک نے بہانہ بنا کر غزہ فنڈنگ اچانک معطل کر دی

انس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں اس کے والدین اور چچا سب شہید ہو گئے، بس وہ دو بھائی بچ گئے ہیں۔ انس نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کو یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ والدین نہیں رہے، کیوں کہ جب اسے پتا چلے گا تو اس کا اس کی نفسیات پر کتنا برا اثر پڑے گا۔

اسرائیلی بمباری میں انس کے والدین ہی شہید نہیں ہوئے بلکہ خود انس کو بھی ایسی چوٹیں ایسے زخم آئے ہیں جن سے اس کی زندگی ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ انس نے واقعے سے متعلق بتایا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ گھر میں تھا، وہ کچھ لانے کے لیے کچن گیا، تو اچانک دھماکا ہوا اور گھر ہمارے اوپر آ گرا، ہر طرف آگ ہی آگ تھی جس نے مجھے لپیٹ میں لے لیا۔

انس کا چھوٹا بھائی آثر بھی اسپتال میں زیر علاج ہے جو اسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہو گیا تھا، اسے اڑنے والا طیارہ اور فٹ بال تحفے میں دیے گئے ہیں، اس نے روتے ہوئے بتایا کہ بمباری میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گیا ہے، ڈاکٹروں نے ٹانگ کاٹ دی ہے۔ اب میں کیا کروں، میں چلنا چاہتا ہوں، میں دوڑنا چاہتا ہوں، میں کھیلنا چاہتا ہوں، اور میں اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

آثر نے بتایا کہ وہ بیٹھنا چاہتا ہے لیکن بیٹھ بھی نہیں سکتا، اس نے کہا مجھے نیند بھی نہیں آتی اور میں سو نہیں پاتا، میں ہر وقت جاگتا رہتا ہوں۔ انس نے روتے ہوئے بتایا کہ آخر میں نے اسرائیل کا کیا بگاڑا تھا، میں نے تو اسرائیل کے ساتھ کچھ نہیں کیا تھا۔

Comments

- Advertisement -