The news is by your side.

Advertisement

گلگت بلتستان انتخابات : پی ٹی آئی کی شاندار فتح، ن لیگ کی چوتھی پوزیشن

گلگت بلتستان : قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تمام غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے، جن کے مطابق پی ٹی آئی پہلی، آزاد امیدواروں نے دوسری اور پیپلز پارٹی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات میں نون لیگ کے بیانیے کوعوام نے مسترد کردیا، الیکشن کمیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق انتخابات میں تحریک انصاف 10 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی مناسبت سے  پیپلز پارٹی 3 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور (ن) لیگ دو نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، 7 نشستوں پر آزاد امیدوار فتح یاب ہوئے جبکہ جبکہ ایم ڈبلیو ایم نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔

جی بی ایل اے01گلگت ون

اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان ایل اے01گلگت ون سے پیپلزپارٹی کے امجد حسین 11178ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ایل اے02گلگت ٹو

جی بی ایل اے02گلگت ٹو سے پیپلزپارٹی کے جمیل احمد8817ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جی بی ایل اے 03 پر امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب ملتوی کردیئے گئے۔

ایل اے04نگر ون

جی بی ایل اے04نگر ون سے پیپلزپارٹی کے امجد حسین 5716ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ جی بی ایل اے05نگرٹو سے آزاد امیدوار جاوید منوا2570ووٹ لے کرجیتے۔

ایل اے06ہنزہ

جی بی ایل اے06ہنزہ سے تحریک انصاف کے عبیداللہ بیگ6600ووٹ سے فتح حاصل کی، جی بی ایل اے07اسکردو ون سے تحریک انصاف کے راجہ ذکریا خان5290ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ایل اے08اسکردوٹو

جی بی ایل اے08اسکردوٹو میں ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم نے 7534ووٹ سے کامیابی حاصل کی، جی بی ایل اے 09اسکردو تھری سے آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6865ووٹ لے کرجیتے۔

ایل اے10اسکردو فور

جی بی ایل اے10اسکردو فور سے آزاد امیدوار راجہ ناصرخان 5124ووٹ لیکرجیت گئے۔ جی بی ایل اے11کھرمنگ سے پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کے امجد علی زیدی 5872ووٹ لیکر الیکشن جیت گئے۔

ایل اے12شگر

جی بی ایل اے12شگر سے پاکستان تحریک انصاف کے راجہ اعظم خان 10674ووٹ لے کر جیت گئے۔ جی بی ایل اے13 استور ون پی ٹی آئی کے خالد خورشید4836ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

ایل اے14استور ٹو

جی بی ایل اے14استور ٹو میں پاکستان تحریک انصاف کے شمس الحق لون5354ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ جی بی ایل اے15دیامر ون آزاد میدوارحاجی شاہ بیگ2713ووٹ لے کر فتحیاب ہوئے۔

ایل اے16دیامر ٹو

جی بی ایل اے16دیامر ٹو میں مسلم لیگ (ن) کے محمد انور4813ووٹ لے کر جیت گئے، جی بی ایل اے17دیامر تھری سے تحریک انصاف کے حاجی حیدر خان 5389ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ایل اے18دیامر فور

اس کے علاوہ جی بی ایل اے18دیامر فور میں پاکستان تحریک انصاٖف کےحاجی گلبر خان6793ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ جی بی ایل اے19غذرون سے آزاد امیدوار نوازخان6208ووٹ لے کر جیت گئے۔

ایل اے20غذرٹو

جی بی ایل اے20غذرٹو، پی ٹی آئی کے نذیر احمد5582ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جی بی ایل اے21غذرتھری،ن لیگ کے غلام محمد1911ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ایل اے22گانچھے ون

جی بی ایل اے22گانچھے ون سے آزاد امیدوارمشتاق حسین 6051ووٹ لے کر جیت گئے۔ جی بی ایل اے23گانچھے ٹو سے آزاد امیدوار عبدالحمید3666ووٹ لے کر کامیاب جبکہ جی بی ایل اے24گانچھے تھری سے پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 6206ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

ایل اے2گلگت

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غیرسرکاری نتائج  میں جی بی ایل اے2گلگت پر  ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد پی ٹی آئی فاتح قرار پائی ہے، پی ٹی آئی کے فتح اللہ خان6696ووٹ سے کامیاب ہوگئے جبکہ پی پی کے جمیل احمد6694ووٹ کے ساتھ صرف 2ووٹ سے پیچھےرہ گئے۔

جی بی کے تمام 23 حلقوں کے مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو 10، آزاد امیدواروں کو7 پیپلزپارٹی کو 3 اور ن لیگ کو 2 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے حصے میں ایک نشست آئی۔

 گلگت بلتستان کے انتخابات کی مکمل تفصیلات کیلئے اس لنک پر کلک کریں 

پولنگ کا عمل اور فل پروف سیکیورٹی  

واضح رہے کہ الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

حفاظتی اقدامات کے تحت پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔

15ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ اسٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں،انتخابات کیلئے ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، حکمران جماعت پی ٹی آئی، پی پی اور نواز لیگ نے جلسے، ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں خوب جان ماری، امیدواروں نے کامیابی کے دعوے بھی کئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں