The news is by your side.

چند منٹوں میں ڈپریشن دور کرنیوالا جیل تیار، پاکستانی طالبعلم کا کارنامہ

جی سی ہونیورسٹی کے ہونہار طالبعلم نے کم عمری میں میڈیکل کی دنیا میں کارنامہ انجام دیتے ہوئے ایسا جیل بنایا ہے جو چند منٹ میں ڈپریشن دور کردیتا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی میں پری میڈیکل سال دوم کے طالبعلم محمد حمزہ کامران نے کم عمری میں ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کیلیے بعض لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔

محمد حمزہ نے ایک ایسا انوکھا آئنٹمنٹ جیل تیار کیا ہے تو ڈپریشن کو صرف چند منٹوں میں دور کردیتا ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

اس حوالے سے حمزہ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج کی دنیا مصروف زندگی والی ہوچکی ہے اور معاشرے میں ڈپریشن عام ہوچکا ہے جس کے لیے ایسا آئنٹمنٹ جیل تیار کرلیا ہے جو صرف چند منٹوں میں ڈپریشن دور کردیتا ہے۔

حمزہ کے مطابق اس نے ریسرچ ورک کرکے اینٹی ڈپریسنٹ آئنٹمنٹ بنائی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسا کیمیکل شامل نہیں جس کے مضر اثرات ہوں بلکہ یہ 100 فیصدر قدرتی اجزا سے بنایا گیا ہے۔ اس کے قدرتی اجزا میں شامل دو اہم چیزیں یوکلپٹول جو کہ یوکلپٹس کے آئل کو کہتے ہیں اور دوسرا پوپی سیڈز ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا استعمال بھی انتہائی آسان ہے۔ اس کو متاثرہ مریض کے ماتھے پر لگانا اور ہلکے ہاتھ سے مالش کرنی ہے تاکہ یہ جلد میں جذب ہوجائے اس کے لگانے سے وہ شخص ریلیکس محسوس کرنا شروع کردے گا اور کچھ دیر میں ہی اس کا ڈپریشن دور ہوجائے گا۔

حمزہ نے کہا کہ یہ جیل سائنسی طور پر اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح مارکیٹ میں دستیاب دیگر اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کام کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں شامل قدرتی اجزا یوکلپٹس اور پوپی سیڈ میں ویکارٹرائیکورٹ اور مونو ٹرپین شامل ہیں جن کا کام بھی ہمارے دماغ میں نیورو ٹرینالین اور سراٹینن کو بے اثر کرنا ہے جو ہمارے موڈ، انزائٹی اور ڈپریشن کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس اینٹی ڈپریسنٹ آئنٹمنٹ کا فیز ون کلینیکل ٹرائل کامیاب ہوچکا ہے، اب دوسرے فیز پر کی طرف جا رہے ہیں، بائیو کیمیکل انالسس کیلیبارٹری رپورٹ پر بھی مختلف لیبارٹری سے کام جاری ہے اور پی سی ایس آئی آر کی رپورٹ بھی لے رہے ہیں۔

یونیورسٹی کی جانب سے حمزہ کو اس ریسرچ ورک پر شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیے گئے ہیں۔

میڈیکل کا یہ طالبعلم اپنی اس طبی دریافت کو مختلف اسپتالوں میں اپلائی کرنا چاہتا ہے تاکہ کلینکل ٹرائل فیز تھری اور فور کے رزلٹ لے کر حتمی ڈیٹا تشکیل دے جب کہ وہ اپنی اس پروڈکٹ پر مزید ریسرچ کے ساتھ اس کو مارکیٹ میں لانے کا بھی خواہشمند ہے۔

 

حمزہ کو اس ریسرچ ورک میں کیا دیگر مشکلات پیش آئیں تو خود ان کی زبانی سنیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں