The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں پانچ سال بعد اذان کی صدائیں گونجے گی، عدالت نے پابندی ختم کردی

برلن: جرمنی کی عدالت نے لاؤڈ اسیپکر پر اذان دینے کی اجازت دیتے ہوئے پابندی کی درخواست مسترد کردی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں میقم مسیحی جوڑے نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان رکوانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی جس کا پانچ برس بعد 23 ستمبر کو عدالت نے فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اس کیس کو خارج کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رائین ویسٹو فیلیا ریاست کے شہر اویر ایرکینسوک میں واقع مسجد سے قانون کے مطابق لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی جارہی تھی۔

مسیحی جوڑے اور مقامی باشندوں نے 2015 میں عدالت میں درخواست دائر کی جس کے بعد لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے پر فوری پابندی عائد کردی گئی تھی۔

مسلم کمیونٹی نے کیس کے دفاع کے لیے وکلاء کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے عدالت میں اپنا بھرپور مؤقف پیش کر کے فتح  حاصل کی۔

عدالت نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا اعتراض کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی عبادات کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہیں۔

پریزائڈنگ جج اینیٹ کلیس چنٹائیگر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اذان کو قبول کرنا چاہیے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ عوام ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں، اس درخواست کی کوئی بنیاد نہیں تھی، بلکہ مذہبی تفریق کی وجہ سے اذان دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں